لارڈز کرکٹ گراؤنڈ، لندن

لارڈ کا کرکٹ میدان، جو لارڈز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کرکٹ کے مشہور و معروف میدانوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ضلع سینٹ جانز ووڈ، لندن، انگلستان میں واقع ہے۔ اس کا نام اس کے بانی تھامس لارڈ (1755ء۔ 1832ء) کے نام پر رکھا گیا جو 1787ء سے 1802ء کے عرصے کے فرسٹ کلاس کرکٹر تھے۔ اب یہ میدان میریلے بون کرکٹ کلب کی ملکیت ہے اور میڈل سیکس کاؤنٹی کرکٹ کلب، انگلینڈاینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) اور یوروپین کرکٹ کاؤنسل (ECC) کا گھر ہے جب کہ اس میدان کو ’’کرکٹ کا گھر‘‘ (Home of Cricket) بھی کہا جاتا ہے۔

لارڈز کی تاریخی گیلری، جس نے کرکٹ کے کئی یادگار مقابلے دیکھے ہیں

لارڈ کا موجودہ میدان وہ نہیں ہے جہاں سب سے پہلے یہ قائم ہوا تھا۔ 1787ء میں قائم ہونے والا میدان اب لارڈز اولڈ گراؤنڈ کے نام سے جانا جاتا ہے اور 1810ء کے بعد سے استعمال میں نہیں رہا۔ لارڈز کا دوسرا میدان، جسے لارڈز مڈل گراؤنڈ کہا جاتا ہے، 1811ء سے 1813ء کے درمیان استعمال میں رہا؛ جب کہ موجودہ میدان لارڈز کا تیسرا میدان ہے جس کا قیام 1814ء میں عمل میں آیا۔ اس میدان میں تقریباً تیس ہزار تماشائیوں کی جگہ ہے۔

لارڈز میں پہلا تین روزہ ٹیسٹ میچ انگلستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے درمیان 21 تا 23 جولائی 1884ء میں کھیلا گیا جس میں انگلستان کو ایک اننگز اور پانچ رنز سے فتح حاصل ہوئی۔ اس میدان پر پہلا ایک روزہ کرکٹ میچ بھی انگلستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں ہی کے درمیان 26 اگست 1972ء کو کھیلا گیا جس میں آسٹریلیا کو پانچ وکٹوں سے فتح یابی نصیب ہوئی۔

لارڈز کے دوکنارے پویلین اینڈ اورنرسری اینڈ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ گھڑی کی طرز سے میدان کے اسٹینڈز کی ترتیب کچھ یوں ہے: دی پویلین، وارنر اسٹینڈ، گرینڈ اسٹینڈ، کومپٹن اسٹینڈ، میڈیا سینٹر، ایڈرچ اسٹینڈ، ماؤنڈ اسٹینڈ، ٹیورن اسٹینڈ، ایلن اسٹینڈ۔

کرکٹ ورلڈ کپ 1999ء کے وقت میدان میں میڈیا سینٹر کی عمارت بنائی گئی جو جے۔پی مورگن میڈیا سینٹر کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ یہ دنیا کی پہلی عمارت ہے جو مکمل ایلمونیم سے بنائی گئی ہے۔ 2007ء میں میدان میں عارضی طور پر فلڈ لائٹس نصب کی گئیں جنھیں 2008ء میں اتار لیا گیا کیوں کہ سینٹ جانز ووڈ کے شہریوں نے روشنی کی آلودگی کی شکایت کی تھی۔ بعد ازاں جنوری 2009ء میں میدان کو نئی فلڈ لائٹس نصب کرنے کی اجازت دے دی گئی جو خاص طور پر اس طرح ڈیزائن کی گئی ہیں کہ شہریوں کے گھروں کو ممکنہ حد تک متاثر ہونے سے بچایا جائے۔

1999ء کے عالمی کپ کے لیے تیار کیا گیا میڈیا سینٹر اپنے منفرد طرز تعمیر کے باعث شہرت رکھتا ہے

لارڈز کے میدان پر کھیلے گئے اہم میچز میں سے ایک 1978ء میں پاکستان اور انگلستان کے درمیان کھیلا جانے والا میچ تھا جس کی ایک اننگز میں ایان بوتھم نے 108 رنز بنائے اور 34 رنز کے عوض آٹھ وکٹیں لے کر ریکارڈ قائم کیا۔ اس میدان پر کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ اسکور آسٹریلیا کا ہے جس نے 1930ء میں ایک چار روزہ ٹیسٹ میچ میں انگلستان کے خلاف پہلی اننگز میں صرف چھ وکٹوں کے نقصان پر 729 رنز بنائے تھے جب کہ سب سے کم اسکور انڈیا کا ہے۔ 1974ء میں انگلستان اور انڈیا کے درمیان کھیلے گئے میچ میں انگلستان کی پہلی اننگز میں 629 رنز کے جواب میں انڈیا نے 302 رنز بنائے جس کے باعث وہ فالوآن پر مجبور ہوا اور دوسری اننگز میں صرف 42 رنز بناسکا۔

لارڈز آفیشل ویب سائٹ

Facebook Comments