بھرپور تیاری کے ساتھ آئے ہیں: کپتان راولپنڈی ریمز سہیل تنویر کی خصوصی گفتگو

فیصل بینک قومی ٹی ٹوئنٹی کپ 2011ء کے لیے فیورٹس میں شمار ہونے والے راولپنڈی ریمز اس مرتبہ بھی بلند عزائم و حوصلوں کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور ان کے کپتان کے سہیل تنویر کا کہنا ہے کہ وہ بھرپور تیاری کے ساتھ آئے ہیں اور ٹی ٹوئنٹی سپر 8 کی طرح یہاں بھی کامیابیاں سمیٹیں گے۔

سہیل تنویر اپنی قیادت میں راولپنڈی ریمز کو رواں سال سپر 8 اور پاکستان 'اے' کو افغانستان کے خلاف سیریز جتوا چکے ہیں

سہیل تنویر اپنی قیادت میں راولپنڈی ریمز کو رواں سال سپر 8 اور پاکستان 'اے' کو افغانستان کے خلاف سیریز جتوا چکے ہیں

کرک نامہ سے خصوصی گفتگو میں سہیل تنویر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سب سے بڑے ٹی ٹوئنٹی ایونٹ کے حوالے سے اپنی تیاریوں کے بارے میں بتایا کہ دورۂ زمبابوے سے میری واپسی کے بعد راولپنڈی میں ٹیم کا کیمپ لگایا گیا جس میں تمام کھلاڑیوں نے بھرپور مشق کی اور اس دوران ہم نے اسلام آباد کی ٹیم سے دو پریکٹس میچز بھی کھیلے جس میں ہماری کارکردگی بہت شاندار رہی۔

26 سالہ سہیل تنویر، جن کی زیر قیادت رواں سال نہ صرف راولپنڈی ریمز نے فیصل بینک سپر ایٹ ٹی ٹوئنٹی جیتا بلکہ پاکستان 'اے' نے افغانستان کی قومی ٹیم کو بھی کلین سویپ کی ہزیمت سے دوچار کیا، اس مرتبہ بھی بہت زیادہ پراُمید ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ میں اپنی ٹیم میں شامل کسی ایک کھلاڑی کی تعریف نہیں کروں گا، ٹیم کے تمام کھلاڑی بہت باصلاحیت اور محنتی ہیں اور کیمپ کے دوران کھلاڑی مجھ سے باؤلنگ اور بیٹنگ کی مفید ٹپس بھی لیتے تھے۔ ان کی دلچسپی اور جوش دیکھ کر مجھے بھی ان کو گائیڈ کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ان کی محنت اور لگن دیکھ کر مجھے امید ہے کہ اس مرتبہ بھی ہم سرخرو ہوں گے۔

ایونٹ کی لاہور سے کراچی منتقلی اور اس کے کارکردگی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے حوالے سے سہیل تنویر نے کہا کہ ایونٹ کہیں بھی ہو، کارکردگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ میں ایک پروفیشنل کرکٹر ہوں اس لئے کسی بھی صورتحال میں کھیل سکتا ہوں اور جہاں تک میری ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں کا تعلق ہے تو وہ بھی اس بات سے قطعی پریشان نہیں۔ انہوں نےکہا کہ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو خراج تحسین پیش کروں گا کہ اس نے صرف چار دن میں ہی کراچی میں ایونٹ کے لئے اتنے شاندار انتظامات کیے جن کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ یہ ایونٹ لاہور میں ہونا تھا۔

سہیل تنویر نے رواں سال فیصل بینک سپر ایٹ ٹی ٹوئنٹی کے فائنل میں ستاروں سے بھری کراچی ڈولفنز کی مضبوط ٹیم کے خلاف کامیابی کو تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کی تاریخ کے بہترین مقابلوں میں سے ایک تھا اور ان اعصاب شکن لمحات سے کھلاڑیوں نے دباؤ میں کھیلنا سیکھا۔

ٹورنامنٹ میں راولپنڈی ریمز کا پہلا مقابلہ 28 ستمبر کو ایونٹ کی واحد غیر ملکی ٹیم افغا چیتاز سے ہوگا۔ اس مقابلے کے حوالے سے سہیل تنویر نے کہا کہ افغانستان کی ٹیم کو ہر گز کمزور نہیں لیں گے کیونکہ اُن کے پاس بھی کچھ بہت اچھے کھلاڑی موجود ہیں اور چند ماہ قبل فیصل آباد میں پاکستان 'اے' نے میری قیادت میں افغانستان کے خلاف تین ایک روزہ میچز کھیلے تھے۔ اس لئے میں ان کی کچھ کمزوریوں سے واقف ہوں اور مجھے امید ہے کہ ان شا ء اللہ ہم اپنے پہلے میچ میں شاندار کامیابی حاصل کریں گے۔

دورۂ زمبابوے میں اپنی پرفارمنس کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زمبابوے کے خلاف اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں،میں نے اس دورے میں بھرپور کوشش کی کہ کسی یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کروں مگر زیادہ وکٹیں نہ لے سکا تاہم پھر بھی میں نے باؤلنگ اچھی کی تاہم اس مرتبہ باؤلنگ سے زیادہ میں بیٹنگ سے لطف اندوز ہوا۔

Facebook Comments