پہلا ایک روزہ کینگروز کے نام؛ میزبان پروٹیز کو شکست

دنیائے کرکٹ کی دو مستند ترین ٹیموں جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کا پہلا ایک روزہ مقابلہ سابق عالمی چیمپئن کے نام رہا۔ مہمان رکی پونٹنگ اور مائیکل کلارک کی عمدہ بلے بازی کی بدولت آسٹریلیا نے ایک قابل ذکر مجموعہ اکھٹا کیا جو پروٹیز بلے بازوں کی دسترس سے باہر رہا۔ جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم کو آسٹریلوی گیند بازوں بالخصوص مچل جانسن اور پیٹرک کمنز کی تباہ کن گیند بازی نے ہدف سے 93 رنز قبل ہی جا لیا۔

Ricky Ponting

آسٹریلوی اوپنر رکی پونٹنگ کا دلکش اسٹروک۔ انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (تصویر: اے ایف پی)

سپر اسپورٹ پارک، سنچورین میں کھیلا جانے والے میچ میں میزبان ٹیم کے کپتان ہاشم آملہ نے ٹاس جیتا اور پچ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا۔ آسٹریلوی اوپننگ بلے بازوں ڈیوڈ وارنر اور رکی پونٹنگ نے اننگز کا تیز آغاز کیا اور اسی کوشش میں مہمان ٹیم کو پہلا نقصان صرف 21 کے مجموعہ پر ہوا جب ڈیوڈ وارنر حریف گیند باز ڈیل اسٹین کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ وارنر کی جگہ مائیکل کلارک نے سنبھالی تو جیسے پروٹیز کے لیے درد سر بن گئے۔

اس دوران بارش اور خراب موسم کے باعث کھیل روک دیا گیا اور کافی وقت ضائع ہوجانے کے باعث دونوں اننگز کو 29 اوورز تک محدود کردیا گیا۔ کلارک نے ساتھی کھلاڑی رکی پونٹنگ کے ہمراہ دوسری وکٹ کی شراکت میں زبردست بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی اسکور میں 102 رنز کا اضافہ کیا۔ اس دوران جنوبی افریقی گیند بازوں نے پچ کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے خطرناک گیند بازی کی۔ ایک موقع پر لونوابو سوٹسوبے نے کلارک کے ہیلمٹ کو بجا ڈالا تو دوسری بار رکی پونٹنگ پروٹیز بالر کی گیند جسم کے نازک حصے پر لگنے پر بلبلا اٹھے۔

کلارک کی رخصتی کے بعد پونٹنگ کو تجربہ کار مائیکل ہسی کی شراکت میسر آئی جس میں انہوں نے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ بعد ازاں ہیڈن کی ایک چھکے اور 3 چوکوں پر مشتمل برق رفتار اننگ کی بدولت آسٹریلیا نے 183 کا مجموعہ حاصل کرلیا۔

جواب میں جنوبی افریقہ کی اننگ کا آغاز انتہائی مایوس کن انداز سے ہوا اور فارم سے باہر بلے باز گریم اسمتھ پہلے ہی اوور میں پویلین لوٹ گئے . اس موقع پر کپتان ہاشم آملہ اور تجربکار جیک کیلس نے ذمہ دارانہ بلے بازی کی اور اسکور کو سست رفتاری سے بڑھاتے رہے. آٹھویں اوور میں 40 کے مجموعہ پر جیک کیلس کی رخصتی نے ایک بار پھر میزبان ٹیم کو دھچکا پہنچایا. اس سے قبل کہ وہ اس صورتحال سے نمٹنے، جے پی ڈومینی بھی صرف 2 گیندیں کھیل کر پویلین روانہ ہوگئے. بعد میں آنے والے بلے باز بھی قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے. پروٹیز بلے باز فرانکو دو پلیسے اور یوہان بوتھا کی جانب سے مزاہمت دیکھنے میں آئی تاہم مچل جانسن اور نوجوان پیٹرک کمنز کی نپی تلی گیند بازوں کے سامنے وہ بھی زیادہ کارگر ثابت نہ ہوسکی۔ یوں پوری جنوبی افریقی ٹیم 22 اوورز میں صرف 129 رنز پر ہی ڈھیر ہوگئی۔

سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ آسٹریلیا کی جانب سے جانسن اور کمنز نے بہترین گیند بازی کرتے ہوئے 3، 3 وکٹیں حاصل کیں۔

پہلے اور دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں سنسنی خیز مقابلے کے برعکس تین ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کا پہلا یک طرفہ رہا۔ آسٹریلوی ٹیم نے سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کرلی ہے تاہم میزبان ٹیم جنوبی افریقہ انجری مسائل کے باوجود فائٹ بیک کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 23 اکتوبر کو پورٹ ایلزبتھ میں کھیلا جانے والا سیریز کا دوسرا میچ کس ٹیم کے نام رہتا ہے۔

Facebook Comments