کھسیانی بلی کھمبا نوچے، سلمان بٹ بورڈ کے رویے پر نوحہ کناں

594

بدنام زمانہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے مرکزی کردار اور پاکستان کی جگ ہنسائی کا سبب بننے والے سلمان بٹ کرکٹ بورڈ کے رویے سے سخت نالاں دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو صرف عامر کی نہیں بلکہ پابندیاں بھگتنے والے تمام کھلاڑیوں کی پروا کرنی چاہیے اور یہ بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے کیونکہ ملک کو صرف محمد عامر ہی کی نہیں سلمان بٹ اور محمد آصف کی بھی ضرورت ہے۔

پاکستان کو صرف عامر ہی کی نہیں بلکہ سلمان اور آصف کی بھی ضرورت ہے: سابق کپتان کا شکوہ (تصویر: AP)
پاکستان کو صرف عامر ہی کی نہیں بلکہ سلمان اور آصف کی بھی ضرورت ہے: سابق کپتان کا شکوہ (تصویر: AP)

بین الاقوامی کرکٹ کونسل اپنے انسداد بدعنوانی (اینٹی کرپشن) قوانین میں ایک ترمیم کرنے جا رہی ہے جس کے تحت طویل پابندیاں بھگتنے والے کھلاڑی پابندی کے خاتمے سے ایک سال پہلے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کے اہل قرار پائیں گے تاکہ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کی اجازت ملتے ہی کھیلنے کے لیے مکمل تیار ہوں۔ لیکن سلمان بٹ نوشتہ دیوار پڑھنے کے بعد اب کھسیانے ہوگئے ہیں اور انہیں واضح طور پر محسوس ہورہا ہے کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ تو کجا فرسٹ کلاس میں بھی واپس نہیں آ پائیں گے جبکہ یہ مجوزہ ترمیم محمد عامر کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی، جن کی عمر اس وقت محض 23 سال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے برملا اس شکوے کا اظہار کیا۔

سابق کپتان نے کہا کہ غلطی ہوجانے کی صورت میں سب کو دوسرا موقع ملنا چاہیے، اس لیے پی سی بی صرف محمد عامر کے لیے کوششیں نہ کرے بلکہ دیگر کھلاڑیوں کی بحالی کے لیے بھی اقدامات اٹھائے۔ سلمان بٹ نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے جو ہدایات بھی دی گئیں، میں نے ان پر عمل کیا اور بدعنوانی کے خلاف بورڈ کے کورس میں حصہ لینے کی شرط پوری کرنے کے لیے پی سی بی کے درجنوں چکر لگا چکا ہوں، لیکن گھاس نہیں ڈالی جا رہی، اس لیے مجھ پر بورڈ سے رابطہ نہ کرنے کے الزامات بالکل غلط ہیں۔

دورۂ انگلستان 2010ء کے لارڈز ٹیسٹ میں جان بوجھ کر نو بالز پھینکنے اور اس کے بدلے میں سٹے باز سے رقوم بٹورنے کے الزامات ثابت ہونے پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے سلمان بٹ کے علاوہ محمد عامر اور محمد آصف پر کم از کم پانچ، پانچ سال کی پابندیاں عائد کی تھیں جبکہ تینوں کھلاڑی بدعنوانی و دھوکہ دہی کے مقدمے میں برطانیہ میں قید کی سزائیں بھی کاٹ چکے ہیں۔ اگر آئی سی سی نے اپنے انسداد بدعنوانی کے قوانین میں تبدیلی کی تو رواں سال یہ تینوں کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے اہل قرار پائیں گے۔