بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف نے جب سے زمام کار اپنے ہاتھ میں لی ہے، انہوں نے وطن عزیز میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کو اپنی اولین ترجیح بنا رکھا ہے۔ ان کا یہ خواب اس وقت پورا ہوتا دکھائی دے رہا تھا جب بنگلہ دیش کا دورۂ پاکستان تقریباً 90 فیصد تک یقینی ہو چکا تھا لیکن بالآخر ڈھاکہ کی عدالت عالیہ کا فیصلہ سامنے آنے اور بورڈ کی جانب سے اس فیصلے کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج نہ کرنے کے نتیجے میں پاکستان میں فوری طور پر بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کا امکان ختم ہو گیا۔

میرپور، آزاد کشمیر کا خوبصورت قائد اعظم کرکٹ اسٹیڈیم پاکستان کے ٹیسٹ مراکز میں تازہ اضافہ ہو سکتا ہے (تصویر: Wikipedia)

میرپور، آزاد کشمیر کا خوبصورت قائد اعظم کرکٹ اسٹیڈیم پاکستان کے ٹیسٹ مراکز میں تازہ اضافہ ہو سکتا ہے (تصویر: Wikipedia)

اس مایوس کن صورتحال میں مختلف حلقوں کی جانب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کو واپس لانے کی کرکٹ بورڈ کی بے صبری سے کی گئی کوششوں پر تنقید بھی کی گئی اور مشورہ دیا گیا کہ بورڈ کو حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اور جب تک امن و امان کی صورت حال واقعتاً بہتر نہیں ہو جاتی، ملک میں بین الاقوامی کرکٹ بحال کرنے کی ضد نہیں کرنی چاہیے۔

لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ اس کے لیے زمین ہموار کرتا دکھائی دے رہا ہے تاکہ جیسے ہی کوئی موقع ہاتھ آئے، وہ اپنا پتہ ضرور پھینکے۔ یہ قالب اطمینان و مسرت امر ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد بورڈ میں کوئی کام کرنے والی انتظامیہ دکھائی دے رہی ہے۔ اس حوالے سے بورڈ نے ایک قدم آگے کی جانب اٹھاتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کے خوبصورت شہر میرپور کے قائد اعظم کرکٹ اسٹیڈیم کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے اور اب اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ کرکٹ اسٹیڈیم پہلے آزاد جموں و کشمیر اسپورٹس ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے زیر انتظام تھا، جس نے تمام حقوق قومی کرکٹ بورڈ کو منتقل کر دیے ہیں۔ بورڈ میں کرکٹ کی تمام تر بنیادی سہولیات موجود ہیں اور یہاں نہ صرف ڈومیسٹک کرکٹ میچز کھیلے جاتے ہیں جبکہ آسٹریلیا کی انڈر 19 ٹیم بھی ایک مرتبہ یہاں اپنے دورے کے چند مقابلے کھیل چکی ہے۔

میرپور فی کس آمدنی کے لحاظ سے پاکستان کا امیر ترین شہر ہے، جس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ یہاں کی بڑی آبادی بیرون ملک خصوصاً برطانیہ میں مقیم ہے۔ اسی خصوصیت کی بنیاد پر میرپور کو Little Britian بھی کہا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کا یہ علاقہ نہ صرف انتہائی پڑھے لکھے و سلجھے ہوئے افراد کا حامل ہے بلکہ یہاں دیگر بنیادی ڈھانچہ مثلاً سڑکیں، معاشی مراکز، قیام گاہیں، تفریح گاہیں اور دیگر بھی بین الاقوامی معیار کی ہیں اور سب سے اہم بات یہ امن و امان کے لحاظ سے بھی یہ علاقہ مثالی حیثیت رکھتا ہے۔

اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششیں رنگ لائیں اور میرپور بھی پاکستان کے نئے ٹیسٹ کرکٹ مرکز کی حیثیت سے سامنے آ گیا تو یہ علاقے کی ترقی کی سمت میں ایک بہت بڑا قدم ہوگا۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ جس اچھے طریقے سے اس منصوبے پر آغازکیا گیا ہے ویسے ہی اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بھی بہترین منصوبہ بندی کی جائے۔ اس پوری منصوبہ بندی میں غلطی کی کوئی گنجائش موجود نہیں، اگر کہیں ایک کڑی بھی کمزور رہ گئی تو تمام تر منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ قائد اعظم کرکٹ اسٹیڈیم کے بنیادی ڈھانچے اور یہاں بین الاقوامی کرکٹ کے لیے درکار سہولیات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اگر کسی غیر ملکی ادارے کی بھی ضرورت پڑے تو اسے حاصل کیا جائے اور چند بڑے شہروں کے علاوہ بھی ملک کو نئے ٹیسٹ مراکز دیے جائیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی پاکستان میں کرکٹ کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے اور اس سے بھی زیادہ اہمیت اس بات کی کہ واپسی کے لیے درست ترین وقت کا چناؤ کیا جائے۔ اگر پاکستان نے جلد بازی میں غلط وقت پر کسی غیر ملکی ٹیم کو بلانے کا فیصلہ کر لیا اور خدانخواستہ ایک اور دہشت گرد حملہ ہو گیا تو پاکستان کرکٹ صرف چند سال نہیں بلکہ کئی دہائیاں پیچھے چلی جائے گی۔

Facebook Comments