آئی پی ایل کو بین الاقوامی کلینڈر میں باضابطہ جگہ نہیں دیں گے: آئی سی سی

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ نے کہا ہے کہ آئی سی سی اپنے سالانہ فیوچر ٹورز پروگرام میں انڈین پریمیئر لیگ کو باضابطہ جگہ دینے پر کئی غور نہیں کر رہی۔ یہ معاملہ 2008ء سے زیر بحث ہے کیونکہ کئی ممالک کے کھلاڑیوں نے متعدد مواقع پر آئی پی ایل کی چکاچوند کو اپنے ملک کی نمائندگی پر ترجیح دی ہے۔ ماضی میں سری لنکا کے باؤلر لاستھ مالنگا اور اب انگلستان کے کیون پیٹرسن کی مخصوص کرکٹ سے ریٹائرمنٹ نے ان مطالبات کو مزید تقویت بخشی ہے جبکہ حال ہی میں ویسٹ انڈیز-آسٹریلیا سیریز میں بھی کئی میزبان کھلاڑیوں نے آئی پی ایل میں کھیلنے کو مقدم جانا۔

آج آئی پی ایل کو ایف ٹی پی میں جگہ دے دی تو کل دوسری لیگز بھی مانگیں گی، پھر کیا کریں گے؟ ہارون لورگاٹ (تصویر: ICC)

آج آئی پی ایل کو ایف ٹی پی میں جگہ دے دی تو کل دوسری لیگز بھی مانگیں گی، پھر کیا کریں گے؟ ہارون لورگاٹ (تصویر: ICC)

اب اگلے سال یہ معاملہ دوبارہ اٹھے گا کیونکہ نیوزی لینڈ کو انہی ایام میں انگلستان کا دورہ کرنا ہے جن دنوں آئی پی ایل سیزن 6 کھیلا جائے گا۔ نیوزی لینڈ کے کھلاڑی اپنے ملک کی نمائندگی سے کہیں زیادہ رقم آئی پی ایل سے کماتے ہیں اور ان کے لیے دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا بڑا مشکل مرحلہ ہوگا۔

لیکن مختلف ممالک کے کھلاڑیوں کی جانب سے آئی پی ایل کو ترجیح دینے کے باوجود بین الاقوامی کرکٹ کونسل اب بھی فیوچر ٹورز پروگرام میں سال کے دو ماہ آئی پی ایل کو دینے سے گریزاں ہے اور ہارون لورگاٹ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ شیڈول میں آئی پی ایل کے لیے ایام مختص کرنا ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔

آئی سی سی کا مرتب کردہ بین الاقوامی کلینڈر ’فیوچر ٹورز پروگرام‘ (ایف ٹی پی) کہلاتا ہے جس میں تعین کیا جاتا ہے کہ کون سا ملک کب کس کے خلاف اور کہاں کھیلے گا، اور ان کی سیریز کتنے مقابلوں پر مشتمل ہوگی۔ اگر آئی پی ایل کو ایف ٹی پی میں باضابطہ جگہ دی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آئندہ ایف ٹی پی مرتب کرتے ہوئے اس امر کا خیال رکھا جائے گا کہ کسی بھی ملک کے مقابلے آئی پی ایل سے متصادم نہ ہوں۔

اسی لیے لورگاٹ، جو رواں ماہ کے اختتام پر چیف ایگزیکٹو کے عہدے کو چھوڑ دیں گے، کا کہنا ہے کہ ”آئی پی ایل کے حق میں فیصلے کا لازماً نتیجہ ہمارے سامنے اس سوال کو لا کھڑا کرے گا کہ بگ بیش لیگ اور دیگر پریمیئر لیگز-جیسا کہ سری لنکا اور بنگلہ دیش میں ہو رہی ہیں- کا کیا کیا جائے؟ مجھے معلوم ہے کہ لوگ کہیں کہ آئی پی ایل ایک معروف لیگ ہے، لیکن کسی مخصوص رکن کو ایف ٹی پی میں ایام مختص کر دینے کے بعد آپ کو تیار رہنا ہوگا کہ دیگر اراکین کو بھی آپ کو ایسی رعایت دینا پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایسی کسی لیگ کے حق میں نہیں جھک رہے۔“

گو کہ آئی سی سی کا یہ فیصلہ بہت معقول لگتا ہے لیکن بین الاقوامی کرکٹ کے سب سے بڑے، اہم اور اثر و رسوخ کے حامل بھارتی بورڈ کے سامنے وہ اپنے فیصلے پر کتنی دیر تک قائم رہتا ہے، اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا لیکن فوری طور پر یہ نئے آنے والے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن کے امتحان کا آغاز ہوگا جو اگلے ماہ کی یکم تاریخ سے اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔

Facebook Comments