بھنگ کے استعمال پر عبد الرحمٰن کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت، 3 ماہ کی پابندی عائد

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے اسپنر عبد الرحمٰن پر نشہ آور شے کے استعمال کے باعث تین ماہ کی پابندی عائد کر دی ہے۔ وہ سمرسیٹ کی نمائندگی کے لیے اس وقت انگلستان میں موجود ہیں اور اب پابندی کے باعث نہ صرف کاؤنٹی چیمپئن شپ سے باہر ہو گئے بلکہ رواں ماہ شروع ہونے والی چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں بھی سیالکوٹ اسٹالینز کی نمائندگی نہیں کر پائیں گے، جہاں تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی پاکستانی ٹیم کھیلے گی۔

عبد الرحمن نے اقرار جرم کرتے ہوئے اہل خانہ اور شائقین سے معذرت طلب کی ہے (تصویر: AP)

عبد الرحمن نے اقرار جرم کرتے ہوئے اہل خانہ اور شائقین سے معذرت طلب کی ہے (تصویر: AP)

عبد الرحمٰن کا ڈوپ ٹیسٹ 8 اگست کو سمرسیٹ اور ناٹنگھم شائر کے مابین مقابلے کے دوران لیا گیا تو جو "بھنگ" (cannabis) کے استعمال کے باعث مثبت ثابت ہوا۔ یوں نہ صرف اسپنر کو خود ہزیمت کا نشانہ بننا پڑا بلکہ انگلش سرزمین پر پاکستانی کھلاڑیوں کی "عزت افزائی" کا مزید سامان بھی اکٹھا ہوا۔

32 سالہ اسپنر نے اس موقع پر اقرار جرم کرتے ہوئے یہ بیان جاری کیا ہے: "میں اپنے اہل خانہ، پاکستان کرکٹ بورڈ، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ، سمرسیٹ کاؤنٹی کرکٹ کلب، اپنے ساتھیوں اور پرستاروں نے معذرت خواہ ہیں۔ یہ میری جانب سے ایک غلطی تھی جس کی مجھے بھاری سزا بھگتنا پڑی ہے۔ میں پوری کوشش کروں گا کہ آئندہ تین ماہ تک مکمل طور پر فٹ رہوں اور ان شاء اللہ میں بھارت کے خلاف سیریز کے لیے دستیاب ہوں گا۔"

کیونکہ بھنگ کا استعمال قوت بخش ادویات کے زمرے میں نہیں آتا، اس لیے عبد الرحمٰن کو صرف 12 ہفتوں یعنی تین ماہ کی پابندی سہنا پڑ رہی ہے، بصورت دیگر اگر معاملہ قوت بخش ادویات کا ہوتا تو ممکنہ طور پر انہیں تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑتا۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کو اُن تمام ممالک کو تسلیم کرنا پڑے گا جو ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ضابطوں کو مانتے ہیں، جن میں پاکستان اور آئی سی سی کے تمام رکن ممالک شامل ہیں۔

عبد الرحمٰن نے جاری انگلش کاؤنٹی سیزن میں سمرسیٹ کی جانب سے کل چار چیمپئن شپ میچز کھیلے اور 27 وکٹیں حاصل کیں جس میں وارسسٹرشائر کے خلاف 65 رنز دے کر 9 وکٹیں حاصل کرنے کی شاندار کارکردگی بھی شامل تھی۔

وہ گزشتہ سال سے پاکستان کے ٹیسٹ دستے کے اہم ترین رکن ہیں اور رواں سال متحدہ عرب امارات میں انگلستان کے خلاف تاریخی کلین سویپ فتح میں 19 وکٹیں حاصل کر کے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ مجموعی طور پر وہ 17 ٹیسٹ مقابلوں میں 81 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

عبد الرحمٰن کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت ثابت ہونا انگلش سرزمین پر پاکستانی کھلاڑیوں کی بدنامی کا ایک تازہ باب ہے۔ ان سےقبل 2010ء میں پاکستان کے تین کھلاڑی سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر اور بعد ازاں اک علیحدہ واقعے میں رواں سال دانش کنیریا اسپاٹ فکسنگ کے مرتکب قرار پا کر اپنی سزائیں بھگت رہے ہیں۔

Article Tags

Facebook Comments