پیٹرک کمنز ایک مرتبہ پھر زخمی، کئی ماہ کے لیے ٹیم سے باہر

سال گزشتہ میں جن نوجوان کھلاڑیوں نے اپنی کارکردگی سے دنیائے کرکٹ کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی، اُن میں آسٹریلیا کے نو عمر پیٹرک کمنز بھی شامل تھے، جنہوں نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں 7 وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلیا کی یادگار فتح کی راہ ہموار کی اور خود مردِ میدان کہلائے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف گزشتہ سال کے جوہانسبرگ ٹیسٹ میں انہوں نے اُس وقت 6 وکٹیں حاصل کی تھیں جب آسٹریلیا سیریز میں وائٹ واش کی ہزیمت سے دوچار ہونے کے قریب تھا لیکن بعد ازاں پیٹ کمنز کی کارکردگی کی بدولت دو وکٹوں سے فتح حاصل کر کے مقابلہ جیتنے اور سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہوا۔ لیکن اس شاندار آغاز کے فوراً بعد ہی انہیں انجری کے مسائل نے گھیر لیا۔ وہ ایڑی کی تکلیف کے ایسے شکار ہوئے کہ اگلے کئی ماہ تک دوبارہ آسٹریلیا کی نمائندگی نہیں کر پائے۔ اب جبکہ کمنز ایک مرتبہ پھر قومی دستے میں اپنی جگہ مضبوط کرتے دکھائی دے رہے تھے، کمر کے نچلے حصے میں اسٹریس فریکچر نے اُنہیں عرصے کے لیے ٹیم سے باہر کر دیا ہے۔

چیمپئنز لیگ 2012ء میں تکلیف کے باوجود کھیلنا پیٹ کمنز کو مہنگا پڑ گیا (تصویر: AFP)

چیمپئنز لیگ 2012ء میں تکلیف کے باوجود کھیلنا پیٹ کمنز کو مہنگا پڑ گیا (تصویر: AFP)

کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق تازہ ترین تشخیص کے بعد اب وہ جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف سیریز کے علاوہ فروری میں بھارت کے دورے کے لیے بھی دستیاب نہیں ہوں گے اور انگلستان کے خلاف اگلے سال ایشیز سیریز کے لیے بھی اُن کا نام تبھی زیر غور آ سکتا ہے جب فرسٹ کلاس کرکٹ میں کھیل کر اپنی مکمل صحت یابی ثابت کریں۔ 19 سالہ پیٹرک کمنز نے یادگار ٹیسٹ ڈیبیو کے بعد سے کوئی فرسٹ کلاس میچ نہیں کھیلا۔

گو کہ ابتدائی تشخیص کے بعد آسٹریلیا کے سلیکٹرز مطمئن تھے کہ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف پرتھ میں تیسرے ٹیسٹ کے لیے دستیاب ہوں گے لیکن ملبورن میں ہونے والی مزید تشخیص نے ان کی طویل غیر حاضری کی تصدیق کر دی ہے۔

پیٹرک کمنز نے حال ہی میں چیمپئنز لیگ 2012ء میں فاتح سڈنی سکسرز کی نمائندگی کی ہے، جہاں کمر میں تکلیف کے باوجود انہوں نے کھیلنا جاری رکھا اور شاید اسی غلطی کی سزا اب انہیں بھگتنا ہوگی۔ گزشتہ سال پیر کی انجری کے بعد آسٹریلیا کے موسم گرما کا بیشتر حصہ گنوانے کے بعد اب وہ اس مرتبہ بھی سیزن کھیلنے سے محروم رہیں گے۔ ٹیم میں واپسی کے بعد بھی وہ دورۂ انگلستان میں پہلو میں تکلیف کا شکار ہوئے تھے اور دورے کے وسط ہی سے انہیں واپس وطن بھیج دیا گیا تھا۔

اب کمنزکی عدم موجودگی میں جیمز پیٹن سن اور مچل اسٹارک جیسے نوجوانوں پر دباؤ میں اضافہ ہوگا تاہم پیٹر سڈل اور بین ہلفناس جیسے پختہ باؤلرز کی موجودگی میں ممکنہ طور پر آسٹریلیا کو تیز گیند بازی کے شعبےمیں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، الّا یہ کہ ان چاروں میں مزید ایک کھلاڑی زخمی ہو جائے۔

آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان پہلا ٹیسٹ 9 نومبر سے برسبین میں شروع ہو رہا ہے۔

Facebook Comments