سازگار حالات، پاکستان نے تیز باؤلرز کی مزید کمک طلب کر لی

جب 22 جنوری کو قومی کرکٹ ٹیم جنوبی افریقہ کے لیے روانہ ہوئی تو چند ماہرین نے اعتراض کیا تھا پاکستان نے وہاں کی کنڈیشنز کا درست جائزہ نہیں لیا اور چار فاسٹ باؤلرز کے ساتھ جنوبی افریقہ جانا ایک غلط فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں کسی ایک باؤلر کے زخمی ہونے کے خدشے کو پیش کیا گیا، جس صورت میں پاکستان کے پاس ایک ناتجربہ کار گیندباز کو آزمانے کے علاوہ کوئی موقع نہ رہ جاتا۔

تنویر احمد نے جنوبی افریقہ کے خلاف ہی ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا اور پہلی ہی اننگز میں 6 سرفہرست بلے بازوں کو آؤٹ کیا (تصویر: AFP)

تنویر احمد نے جنوبی افریقہ کے خلاف ہی ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا اور پہلی ہی اننگز میں 6 سرفہرست بلے بازوں کو آؤٹ کیا (تصویر: AFP)

یہی وجہ ہے کہ جنوبی افریقہ پہنچ کر، اور پہلے ٹور میچ کے دوران حالات کا درست ادراک ہونے کے بعد ٹیم انتظامیہ نے سلیکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ مزید دو تیز باؤلرز بھیجے تاکہ حالات کے مطابق قوت کو مجتمع کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے تنویر احمد اور راحت علی کو تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے لیے جنوبی افریقہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ دونوں کھلاڑی یکم فروری کو پہلے ٹیسٹ سے قبل جوہانسبرگ پہنچ جائیں گے۔

اس وقت جنوبی افریقہ میں عمر گل اور جنید خان کے علاوہ محمد عرفان اور احسان عادل کی صورت میں چار تیز گیند باز موجود ہیں اور اب تنویر احمد اور راحت علی کی صورت میں دو مزید باؤلر بھیج کر اس شعبے مزید مضبوط بنا دیا ہے۔

24 سالہ راحت علی گو کہ گزشتہ سال دورۂ سری لنکا میں ایک بین الاقوامی مقابلہ کھیل چکے ہیں، لیکن ان کا فرسٹ کلاس تجربہ بھی محدود ہی ہے۔ البتہ 39 میچز میں وہ 20.35 کے شاندار اوسط سے 152 وکٹیں سمیٹ چکے ہیں۔ سری لنکا میں کیریئر کے مایوس کن آغاز کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ اب ان کی نظریں دورۂ جنوبی افریقہ پر ہیں۔ وہ اس وقت پاکستان کے تیز ترین باؤلرز میں سے ایک شمار ہوتے ہیں۔

دوسری جانب 34 سالہ تنویر احمد ہیں، جو 2010ء میں جنوبی افریقہ ہی کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا۔ اپنے اولین ٹیسٹ ہی میں جنوبی افریقہ کے خلاف پہلی اننگز میں 6 وکٹیں حاصل کیں جن میں گریم اسمتھ، الویرو پیٹرسن، ہاشم آملہ اور ژاک کیلس جیسے مایہ ناز بلے بازوں کی وکٹیں بھی شامل تھیں۔ لیکن 2011ء میں دورۂ ویسٹ انڈیز کے بعد قومی ٹیم سے باہر کر دیے گئے اور دوبارہ جگہ نہیں بنا پائے۔ مجموعی طور پر 4 ٹیسٹ میچز میں انہوں نے 24.56 کے اوسط سے 16 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہےکہ کیا تنویر اور راحت کے علاوہ احسان عادل بھی ٹیم میں جگہ بنا پائیں گے یا ان کے لیے یہ دورہ محض سیر سپاٹے کے بعد ختم ہو جائے گا۔

Facebook Comments