عرفان کی فاتحانہ واپسی، مصباح کی قائدانہ اننگز، سیریز برابر

پاکستانی تیز گیندبازوں خصوصاً محمد عرفان کی عمدہ باؤلنگ اور بعد ازاں کپتان مصباح الحق اور شعیب ملک کے درمیان 77 رنز کی ناقابل شکست و فتح گر شراکت داری نے پاکستان کو جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ون ڈے میں 6 وکٹوں کی زبردست فتح سے ہمکنار کر دیا۔ محمد عرفان کی تباہ کن باؤلنگ نے جنوبی افریقہ کو ایسا پچھلے قدموں پر دھکیلا کہ بعد ازاں فرحان بہاردین اور رابن پیٹرسن کی بہترین اننگز بھی اسے فاتحانہ پوزیشن میں نہ لا سکیں۔

محمد عرفان نے شاندار باؤلنگ کے بعد پہلی بار میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا (تصویر: AP)

محمد عرفان نے شاندار باؤلنگ کے بعد پہلی بار میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا (تصویر: AP)

سنچورین کے نسبتاً چھوٹے میدان میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا، اس امر کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ اس میدان پر بڑا مجموعہ اکٹھا کیا جا سکتا ہے اور پاکستان ہدف کے تعاقب میں کمزور بھی ہے، لیکن گزشتہ ون ڈے سے محروم رہنے والے محمد عرفان آتے ہی پروٹیز بلے بازوں پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے عالمی نمبر ایک بلے باز ہاشم آملہ، گزشتہ میچ کے ہیرو کولن انگرام اور کپتان ابراہم ڈی ولیئرز کی وکٹیں ٹھکانے لگا کر تہلکہ مچا دیا۔ جنوبی افریقہ محض 35 رنز پر تین وکٹیں گنوا بیٹھا تو دوسرے اینڈ سے جنید خان نے گریم اسمتھ کو وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ کراکے زبردست ضرب لگائی اور پھر عرفان نے اپنی ہی گیند پر فرانکو دو پلیسی کا خوبصورت کیچ تھام کر گویا میچ کا فیصلہ کر لیا۔

جنوبی افریقہ کی آدھی ٹیم محض 62 کے مجموعے پر پویلین لوٹ چکی تھی اور پاکستان کے نادر موقع تھا کہ وہ گرتی دیوار کو دھکا دے کر انہیں ایسی شکست دے کہ وہ بھلا نہ پائیں۔ لیکن اس موقع پر فرحان بہاردین اور رابن پیٹرسن کی صورت میں موجودہ آخری مستند جوڑی نے اننگز کو سنبھالا۔ بہاردین، جنہوں نے گزشتہ ون ڈے میں بھی بہت عمدہ بلے بازی کی تھی، یہاں ایک ایسی اننگز کھیلی جو جنوبی افریقہ کے لیے فتح گر ثابت ہو سکتی تھی۔ انہوں نے 82 گیندوں پر 5 چوکوں کی مدد سے 58 رنز بنائے اور ساتویں وکٹ پر پیٹرسن کے ساتھ 67 قیمتی رنز جوڑے۔ محمد حفیظ نے انہیں شعیب ملک کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا تو اسی وقت میدان کو بارش نے آ لیا اور کافی وقت ضایع ہوا جس کے بعد امپائرز نے باہمی فیصلے کے ذریعے مقابلے کے 44 اوورز فی اننگز تک محدود کر دیا۔

جب میچ دوبارہ شروع ہوا تو جنوبی افریقہ بقیہ 5 اوورز کا اچھی طرح فائدہ نہ اٹھا سکا اور پوری ٹیم آخری یعنی 44 ویں اوور میں 191 پر آؤٹ ہو گئی۔

پاکستان کی جانب سے محمد عرفان نے 7 اوورز میں 33 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ جنید خان، سعید اجمل اور محمد حفیظ کو 2، 2 وکٹیں ملیں۔

44 اوورز میں 192 رنز کا ہدف گو کہ کوئی پہاڑ جیسا مجموعہ نہ تھا، لیکن پاکستان، جس کے پاس ایک مستند بلے باز یعنی اسد شفیق کی بھی کمی تھی، کا تمام تر انحصار افتتاحی شراکت پر تھا۔ محتاط آغاز کے بعد ناصر جمشید تو دہرے ہندسے میں پہنچتے ہی سلپ میں کیچ دے بیٹھے، جس پر پاکستان نے، ماہرین کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے، کامران اکمل کو ون ڈاؤن بھیجا، جنہوں نے حفیظ کے ساتھ پیش قدمی جاری تو رکھی لیکن کسی بھی لمحے حریف باؤلر پر حاوی نظر نہ آئے۔ کوشش انہوں نے کافی کی لیکن محمد حفیظ کے، ایک مرتبہ پھر، ڈیل اسٹین کے ہاتھوں آؤٹ ہو جانے کے بعد ان کو بھی پویلین لوٹتے ہی بنی۔ حفیظ 31 اور کامران 18 رنز بنا کر لوٹے تو پاکستان 69 رنز پر اپنے تین کھلاڑیوں سے محروم ہو چکا تھا اور دو تجربہ کار بلے بازوں مصباح الحق اور یونس خان پر ذمہ داری عائد تھی کہ وہ اس منجدھار سے ٹیم کو نکالیں۔

دونوں نے بہت سست روی سے اننگز کا آغاز کیا اور آہستہ آہستہ رنز کی رفتار میں اضافہ کیا۔ دونوں کے درمیان چوتھی وکٹ پر 46 رنز بنے، جو کم اسکور والے اس میچ میں کافی اہم ثابت ہوئے۔ یونس بدقسمتی سے اس وقت آؤٹ ہوئے جب ان کا بلا کھلنا شروع ہوا۔ وہ 41 گیندوں پر 32 رنز بنانے کے بعد پیٹرسن کی دوسری وکٹ بن گئے۔

اب بلے بازوں کی آخری مستند جوڑی میدان میں تھی، اور حقیقتاً کہا جائے تو سب سے بڑی ذمہ داری کپتان مصباح پر تھی کہ وہ شعیب ملک اور پھر آنے والے بلے بازوں کے ساتھ فتح کی جانب پیش قدمی کریں۔

اور دونوں نے کیا خوبی سے اس ذمہ داری کو نبھایا۔ آہستگی سے آغاز لینے کے بعد جب پاکستان کو آخری 13 اوورز میں 60 رنز کی ضرورت تھی تو شعیب ملک نے اننگز کو اگلے گیئر میں ڈالا اور لونوابو سوٹسوبے کے ایک ہی اوور میں چار چوکے رسید کر کے پاکستان کی اننگز کو تحریک دی۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے رابن پیٹرسن کو بھی چھکا رسید کیا جبکہ دوسرے اینڈ سے مصباح الحق بھی وقتاً فوقتاً چوکے رسید کرتے رہے ، یہاں تک کہ 40 ویں اوور میں پاکستان نے ہدف کو جا لیا۔

مصباح 75 گیندوں پر 57 اور شعیب ملک 38 گیندوں پر 35 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔ مصباح کی اننگز میں 3 چوکے اور اتنے ہی چھکے شامل تھے جبکہ شعیب ملک نے ایک چھکا اور 4 چوکے لگائے۔

یعنی پاکستان کی آج کی فتح میں تجربے کی حامل مثلث کا اہم کردار رہا، جنہوں نے ابتدائی 3 وکٹیں گر جانے کے بعد ٹیم کو ہدف کے تعاقب میں رکھا اور بالآخر منزل کو جا لیا۔

محمد عرفان کو پاکستان کی فتح کی بنیاد رکھنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب دونوں ٹیمیں اتوار کو جوہانسبرگ میں تیسرے مقابلے میں آمنے سامنے آئیں گی جہاں کی فاتح ٹیم سیریز میں برتری حاصل کرے گی۔

Facebook Comments