شکست زمبابوے کے دامن سے چمٹ گئی، بھارت چوتھا ون ڈے بھی جیت گیا

ہرارے کی طرح بلااویو میں بھی شکست نے زمبابوے کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ زمبابوین ٹیم کو امید تھی کہ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل بھارتی ٹیم کو ایک میچ میں تو وہ قابو کرلیں گے لیکن چوتھے میچ میں بھی یہ خواب پورا نہ ہوسکا اور بھارت نے باآسانی 9 وکٹوں سے فتح حاصل کر کے سیریز میں 4-0 کی برتری حاصل کرلی ہے۔

دوسری وکٹ پر روہیت اور رینا کے درمیان 122 رنز کی فتح گر شراکت داری قائم ہوئی (تصویر: AP)

دوسری وکٹ پر روہیت اور رینا کے درمیان 122 رنز کی فتح گر شراکت داری قائم ہوئی (تصویر: AP)

بھارتی کپتان ویراٹ کوہلی نے ٹاس جیت کر پہلے اپنے باؤلرز کو گیند تھمائی۔ ان کا یہ فیصلہ نوجوان گیندبازوں نے اس وقت درست کردکھایا جب ابتدائی پانچ حریف بلے باز 47 کے مجموعے پر پویلین واپس جا چکے تھے۔ پاکستانی نژاد سکندر رضا 7 ، ہملٹن ماساکازا 10 ، کپتان برینڈن ٹیلر اور سین ولیمز صفر، صفر اور اوپنر ووسی سبانڈا 24 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

چھٹی وکٹ کی شراکت میں میلکم والر اور ایلٹن چگمبورا نے 80 رنز جوڑ کر ٹیم کا اسکور مستحکم کیا ۔ والر 35 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ باقی بلے بازوں میں پراسپر اُتسیا 1 ، ٹینڈی چتارا 1، برائن وٹوری 8 اور مائیکل چنویا صفر بنا سکے۔ 42.4 اوورز میں زمبابوے کی اننگز اختتام کو پہنچی، اس وقت چگمبورا 50 رنز کے ساتھ ناقابل شکست تھے۔

بھارتی اسپنر امیت مشرا نے 3، رویندر جدیجا اور ڈیبوٹنٹ موہت شرما نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم نے بیٹنگ شروع کی تو اپنا پہلا ون ڈے کھیلنے والے چیتشور پجارا 13 کے انفرادی اسکور پر اپنی وکٹ کھو بیٹھے، اس وقت بھارت کا مجموعی اسکور 23 رنز تھا۔ ایسا لگا کہ زمبابوے کے باؤلر جلد حاصل ہونے والی اس وکٹ کے بعد بھارت کو کچھ پریشان کریں گے۔لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس رہا اور روہیت شرما نے سریش رینا کے ساتھ مل کر ناتجربہ کار زمبابوین باؤلرز سے بے رحمی کا سلوک کرتے ہوئے آخر تک انہیں مزید کوئی وکٹ نہ لینے دی اور بھارت نے مقررہ ہدف باآسانی 29 ویں اوور میں حاصل کرلیا۔

پانچ چوکے اور ایک چھکا لگانے والے روہیت شرما نے 90 گیندوں پر 64 رنز بنائے جبکہ 6 چوکوں کی مدد سے 65 رنز بنانے والے سریش رینا نے 71 گیندوں کا سامنا کیا۔

موہیت شرما میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

پانچ ایک روزہ مقابلوں کی سیریز کا آخری میچ 3 اگست کو کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments