ہمت سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی، نہ دکھانے والے پھر بھی ٹیم میں: مصباح کا شکوہ

پاکستان کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ انہوں نے سال 2013ء میں اب تک ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنائے ہیں، اس کے باوجودان کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو ان کی سمجھ سے بالاتر ہے، جبکہ ٹیم میں ایسے کھلاڑی بھی موجود ہیں جو مسلسل خراب کارکردگی پیش کر رہے ہیں لیکن ان کے گن گائے جا رہے ہیں۔

حفیظ اور آفریدی کی کارکردگی پر تبصرہ نہیں کرسکتا، اب فیصلہ سلیکشن کمیٹی کے ہاتھ میں ہے: مصباح (تصویر: AP)

حفیظ اور آفریدی کی کارکردگی پر تبصرہ نہیں کرسکتا، اب فیصلہ سلیکشن کمیٹی کے ہاتھ میں ہے: مصباح (تصویر: AP)

جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ایک روزہ سیریز میں 4-1 کے بھاری مارجن سے شکست کھانے کے بعد وطن واپس پہنچنے والے مصباح الحق بہت دلبرداشتہ دکھائی دیے البتہ انہوں نے واشگاف انداز میں کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ سب سے اچھی کارکردگی دکھانے کے بعد بھی میں قیادت چھوڑ دوں گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے، میری اب پوری توجہ مستقبل میں فتوحات پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنی میری ہمت ہے، میں اتنی کارکردگی دکھا رہا ہوں، پھر کیوں مایوس ہوں؟

لاہور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے مصباح کا کہنا تھا کہ تجربہ کار یا ناتجربہ کار، تمام ہی بلے بازوں کی کارکردگی ناقص رہی، کبھی ٹیم سے 50 گیندوں پر 10 رنز نہیں بنے تو کبھی 36 گیندوں پر 42 رنز بنانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اگر کارکردگی ایسی ہی رہی تو جیتنا ناممکن ہوجائے گا۔

مصباح کا کہنا تھا کہ محمد حفیظ اور شاہد آفریدی کی کارکردگی پر وہ تبصرہ نہیں کر سکتے کیونکہ سلیکشن کمیٹی موجود ہے اور تمام کھلاڑیوں کی کارکردگی اس کے سامنے ہیں۔ یہ فیصلہ وہی کرے گی کہ کس کو کھلانے کی ضرورت ہے اور کس کو آرام دینے کی۔

وطن واپس لوٹنے والے کھلاڑیوں میں اسد شفیق اور وکٹ کیپر سرفراز احمد بھی شامل ہیں۔یہ دونوں کھلاڑی کراچی پہنچے جہاں اسد نے صحافیوں سے بات کرنے کے بجائے سیدھا اپنے گھر کی راہ لی۔

Facebook Comments