زخم ۔۔۔ یا اعتبار ختم؟

لگتا ہے کہ پاکستان کرکٹ کی مشکلات ختم ہونے کو نہیں آرہی ابھی جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست کے بعد گرین شرٹس کے زخم ہرے تھے کہ پروٹیز کے دیس میں سینئر کھلاڑی عبدالرزاق اور شعیب ملک زخمی ہوکر وطن واپسی کی راہ لینے پر مجبور ہوگئے۔کھلاڑیوں کا زخمی ہونا اور ٹور سے واپس آنا کوئی نئی یا انہونی بات نہیں ہے لیکن دونوں آل راؤنڈرز کے ایک ساتھ زخمی ہونے کی "ٹائمنگ" بہت سے سوالوں کو جنم دے رہی ہے جن کا جواب یقینی طور پر پی سی بی کی چار سطروں کی میڈیا ریلیز میں تلاش نہیں کیا جاسکتا۔

دونوں آل راؤنڈرز کے زخمی ہونے کی "ٹائمنگ" بہت سے سوالات جنم دے رہی ہے (تصویر: Getty Images)

دونوں آل راؤنڈرز کے زخمی ہونے کی "ٹائمنگ" بہت سے سوالات جنم دے رہی ہے (تصویر: Getty Images)

شعیب ملک کی انگلی جنوبی افریقہ کےخلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں وین پارنیل کا باؤنسر لگنے سے زخمی ہوئی تھی لیکن شعیب ملک طبی امداد حاصل کرنے کے بعد دوبارہ بیٹنگ کیلئے آگئے اور بظاہت یہ چوٹ معمولی لگ رہی تھی لیکن شعیب ملک کی انجری کے حوالے سے پی سی بی ترجمان کا کہنا ہے سفر کی تھکاوٹ کے باعث شعیب ملک کے ہاتھ کی انجری بگڑ گئی ہے۔دونوں کھلاڑیوں کی انجریز اپنی جگہ لیکن ان دونوں کو عجلت میں وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ کیا ان دونوں کھلاڑیوں کی انجری اتنی شدید نوعیت کی ہے کہ 19نومبر کو ان فٹ ہونے والے دونوں کھلاڑی 30 نومبر کو کھیلے جانے والے آخری ون ڈے سے پہلے بھی فٹ نہیں ہوسکیں گے؟ سلیکشن کمیٹی نے اس ٹور کیلئے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے 17 کھلاڑیوں کا انتخاب کیا تھااس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ شعیب ملک اور عبدالرزاق چونکہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا حصہ تھے جو دوسرے میچ سے پہلے فٹ نہیں ہوسکتے تھے اس لیے انہیں واپس بھیج دیا گیا۔دوسرے کھلاڑیوں کی طرح یہ دونوں ون ڈے اسکواڈ بھی حصہ تھے اور ان دونوں نے بھی دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ یکم دسمبر کو واپس آنا تھا۔دونوں کھلاڑیوں کے زخموں کو "برقرار" رکھنے کیلئے پی سی بی کو انہیں 27نومبر سے شروع ہونے والے ڈیپارٹمنٹل ٹی ٹوئنٹی سے بھی دور رکھنا ہوگا تاکہ ان کی انجری کا پول نہ کھل جائے۔

2007ء میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل شعیب اختر اپنے ساتھی کھلاڑی محمد آصف کو بلّا مارنے کے جرم میں جنوبی افریقہ سے واپس آئے تھے اور اب دونوں کھلاڑیوں کی واپسی سے بھی کسی تنازع کی بو آرہی ہے۔

جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست کے بعد قومی ٹیم میں کپتانی کی جنگ کا بھی آغاز ہوچکا ہے اور باوثوق ذرائع کے مطابق ایک آل راؤنڈر مارچ میں کھیلے جانے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کیلئے قیادت کا مضبوط امیدوار بن چکا ہے ایسے حالات میں شعیب ملک اور عبدالرزاق کا اچانک ان فٹ ہوجانا بہت ہی معنی خیز ہے۔کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں مصباح کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں واپسی کروانے کیلئے یہ سارا ڈرامہ رچایا گیا ہے تاکہ ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم کے کپتان کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی گرین شرٹس کی کپتانی مل جائے مگر اس طرح کی قیاس آرائیاں میرے خیال میں درست نہیں ہیں لیکن پاکستان کرکٹ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔اگلے چند دنوں میں یہ اندازہ بھی ہوجائے گا کہ دونوں کھلاڑیوں کو واقعی "زخم" آئے ہیں یا ان دونوں پر سے کرکٹ بورڈ کا اعتبار ختم ہوگیا ہے۔

جس ٹیم میں پانچ کپتان کھیل رہے ہوں وہاں کپتانی کیلئے جنگ کوئی انوکھی بات نہیں ہے اور مارچ میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور پھر 2015ء میں ون ڈے کے ورلڈ کپ کیلئے قیادت کے حصول کیلئے رسہ کشی شروع ہوچکی ہے اور شعیب ملک اور عبدالرزاق کو ان فٹ قرار دے کر وطن واپس بھیجنا بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہوسکتی ہے کہ دونوں سینئر کھلاڑیوں کا پتا صاف کردیاجائے۔ شعیب ملک تو اپنے "مستقبل" کیلئے زبان بند ہی رکھیں گے لیکن عبدالرزاق کی ایئرپورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کا انتظار کرنا ہوگا کہ جارح مزاج کا آل راؤنڈر اس مرتبہ بھی اپنے مجرموں کی دھجیاں اڑائے گا یا مصلحت کی چادر اوڑھ کر گھر روانہ ہوجائے گا۔

Facebook Comments