احمد شہزاد، سال کی چوتھی پاکستانی سنچری

جب سے سعید انور، انضمام الحق اور محمد یوسف جیسے بلے بازوں نے پاکستان کرکٹ کو خیرباد کہا ہے، بلے بازی کے میدان میں پاکستان کی رہی سہی صلاحیت کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے۔ 2008ء میں 9 سنچریاں بنانے والے پاکستانی بلے باز اس کے بعد سے اب تک 4 سالوں میں صرف 18 سنچریاں بنا سکے ہیں جن میں 2012ء اور 2013ء میں صرف تین، تین، سنچریاں بنیں تھیں۔ البتہ آج احمد شہزاد کی یادگار باری نے سال میں پاکستانی بلے بازوں کی چوتھی سنچری کی حیثیت سے جگہ بنا لی۔

احمد شہزاد جنوبی افریقہ کے خلاف سنچری بنانے والے صرف تیسرے پاکستانی بلے باز ہیں (تصویر: AFP)

احمد شہزاد جنوبی افریقہ کے خلاف سنچری بنانے والے صرف تیسرے پاکستانی بلے باز ہیں (تصویر: AFP)

پورٹ ایلزبتھ میں پاک-جنوبی افریقہ سیریز کے دوران انہوں نے 34 ویں ون ڈے میں اپنے ایک ہزار رنز مکمل کیے اور بلاشبہ اپنے کیریئر کی یادگار ترین سنچری بھی بنائی۔ یادگار اس لیے کہ جنوبی افریقہ ہمیشہ ہی سے گیندبازوں کے حوالے سے زرخیز زمین رہا ہے، پھر وہاں کی پچیں بھی تیز باؤلرز کے لیے مددگار ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک پروٹیز کے خلاف صرف 10 پاکستانی بلے باز ہی سنچریاں بنا پائے ہیں، جن میں احمد شہزاد کا نام بھی شامل ہے۔

ابر آلود موسم میں جہاں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا، پاکستان ابتداء ہی میں ڈیل اسٹین کے ہاتھوں اپنے دو بلے باز کھو بیٹھا، ایک ناصر جمشید جو اندر آتی ہوئی گیند کو نہ سمجھ پائے اور ان کا آف اسٹمپ ہوا میں قلا بازیاں کھاتا ہوا دور جاگرا اور کچھ ہی دیر بعد پاک-جنوبی افریقہ مقابلوں کے اسکور کارڈ کی جانی پہچانی انٹری آ گئی یعنی 'محمد حفیظ آؤٹ ڈیل اسٹین'۔ پاکستان صرف 22 رنز پر اپنی دو وکٹیں گنوا چکا تھا اور دو نوجوان کھلاڑی میدان میں موجود تھے۔ ایک احمد شہزاد اور دوسرے صہیب مقصود جنہوں نے تیسری وکٹ پر صرف 128 گیندوں پر 124 رنز کی شاندار شراکت داری قائم کرکے پاکستان کو ایک بہت اچھا پلیٹ فارم مہیا کیا۔

احمد شہزاد 112 گیندوں پر 2 چھکوں اور 8 چوکوں کی بدولت 102 رنز بنانے کے بعد بدقسمتی سے رن آؤٹ ہوگئے البتہ سال میں کسی بھی پاکستانی بلے باز کی چوتھی سنچری ضرور مکمل ہوئی۔ رواں سال پاکستان کی جانب سے پہلی سنچری ناصر جمشید نے بنائی تھی جنہوں نے3 جنوری کو بھارت کے خلاف کولکتہ میں 106 رنز داغے جبکہ اس کے بعد سال بھر میں پاکستانی بلے بازوں میں سے صرف محمد حفیظ ہی تہرے ہندسے کی اننگز کھیل پائے۔ انہوں نے دو مرتبہ 122 اور 136 رنز کی ناقابل شکست باریاں کھیلیں لیکن یہ دونوں آئرلینڈ اور زمبابوے جیسے کمزور حریفوں کے خلاف کھیلی گئیں۔

اس کے بعد گزشتہ تین ماہ سے پاکستانی بلے باز جنوبی افریقہ کے خلاف جدوجہد کرتے دکھائی دیے اور ایک مرتبہ بھی کوئی کھلاڑی تہرے ہندسے میں نہیں پہنچا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان حالیہ سیریز میں چار-ایک کے بڑے مارجن سے شکست سے دوچار ہوا اور اب دورۂ جنوبی افریقہ میں تین ون ڈے مقابلوں کی سیریز میں ایک-صفر کی برتری کے حاصل کرنے کے بعد یہ سنچری اننگز اگر فتح گر ثابت ہوئی تو پاکستان تاریخ میں پہلی بار جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز جیت سکتا ہے۔

Facebook Comments