ذوالفقار بابر: پرفارمنس اور فٹنس کے باوجود نظرانداز

پاکستان میں باصلاحیت کھلاڑیوں کے ناانصافی کی بھینٹ چڑھ جانے کے اتنے واقعات ہیں کہ انہیں دیکھ کر اکثر اوقات ڈومیسٹک کرکٹ بے وقعت محسوس ہونے لگتی ہے۔ مقامی کرکٹ میں مسلسل محنت کرنے اور کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو شاذونادر ہی اس کا صلہ ملتا ہے اور زیادہ تر کھلاڑی جونیئر کرکٹ سے "چھلانگ" لگا براہ راست قومی ٹیم میں پہنچ جاتے ہیں۔

معمولی انجری کے باوجود ذوالفقار کو تین ہفتے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ سے دور بھی رکھا گیا اور زباں بندی بھی کردی گئی (تصویر: فرحان نثار)

معمولی انجری کے باوجود ذوالفقار کو تین ہفتے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ سے دور بھی رکھا گیا اور زباں بندی بھی کردی گئی (تصویر: فرحان نثار)

سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے جس ٹیم کا اعلان ہوا اس میں محمد طلحہ کی واپسی خوش آئند ہے جو تین چار سیزن سے مستقل کارکردگی پیش کرنے کے باوجود سلیکشن کمیٹی کی نظر انتخاب میں نہ آ سکے اور اب بھی اس بات کی ضمانت نہیں کہ طلحہ کو تقریباً پانچ سال بعد دوبارہ پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کھیلنے کا موقع ملے گا۔ جہاں طلحہ کی واپسی کو سراہا جا رہا ہے وہیں بائیں ہاتھ سے اسپن باؤلنگ کرنے والے 35 سالہ ذوالفقار بابر کے اخراج کو ان کی صلاحیتوں کے ساتھ زیادتی شمار کیا جانا چاہیے جو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں مجموعی طور پر 5 وکٹیں حاصل کرنے کے بعد انجری کے سبب دوسرا ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔

محمد حفیظ کی واپسی کی وجہ سے پاکستان کو سعید اجمل اور عبدالرحمٰن کے بعد ساتھ تیسرا اسپن آپشن مل گیا ہے مگر اس کے باوجود ذوالفقار بابر کو ٹیم سے ڈراپ نہیں کیا جا سکتا تھا جو ٹی ٹوئنٹی میں عمدہ آغاز کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھتے ہی پہلے مقابلے میں پروٹیز بلے بازوں کو مشکلات سے دوچار کرچکا ہے۔

ماضی قریب میں محمد طلحہ کو ڈومیسٹک ٹیم کی تبدیلی کی "سزا" سلیکشن کمیٹی نے بین الاقوامی کرکٹ سے دور رکھ کر دی اور اب یہی کھیل ذوالفقار بابر کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے، جنہیں کرکٹ بورڈ میں موجود کچھ لوگ پسند نہیں کرتے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف سیريز میں اَن فٹ ہونے کے بعد ڈاکٹرز نے ذوالفقار کو تین ہفتے آرام کی ہدایت کی تھی مگر فٹ ہونے کے باوجود انہیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے روکا گیا۔ ذوالفقار بابر کی انجری اتنی سنجیدہ نوعیت کی نہیں تھی کہ انہیں تین ہفتے کرکٹ سے دور رہنا پڑتا لیکن پی سی بی کی ہدایت پر اسپنر کو مجبوراً میدانوں سے دور رہنا پڑا اور اس دوران نیشنل اکیڈمی کے دروازے بھی اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے اس باؤلر پر بند رکھے گئے۔

جنوبی افریقہ کے مختصر دورے پر ذوالفقار کو منتخب نہ کرنے کی وجہ ان کی انجری بتائی گئی حالانکہ اس دورانیے میں "ذولفی" ٹی ٹوئنٹی کپ میں مکمل فٹنس کے ساتھ واپڈا کی نمائندگی کرتے ہوئے دیکھے گئے اور اس ایونٹ کے بعد ایک فرسٹ کلاس میچ کھیل کر طویل دورانیے کی کرکٹ میں بھی اپنی فٹنس ثابت کی۔

قومی کرکٹ ٹیم میں شمولیت سے قبل ذوالفقار بابر نے اس امر کا اعتراف کیا تھا کہ اگر محسن خان چیف سلیکٹر رہتے تو وہ پہلے ہی پاکستان کے لیے کھیل جاتے کیونکہ وہ انہیں منتخب کرنے کے حوالے سے کافی سنجیدہ تھے۔ لیکن پی سی بی نے انہیں چیف سلیکٹر کے عہدے سے ہٹا کر قومی کوچ بنا دیا اور اس کے بعد "ذولفی" کی امیدیں بھی ٹوٹ گئیں۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پی سی بی کے موجودہ سیٹ اپ میں محسن خان پسندیدگی کے کسی بھی معیار پر پورا نہیں اترتے جو سابق چیئرمین کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید بھی کرتے رہے ہیں اس لیے محسن خان کو اپنا "محسن" قرار دینے دینے والوں کے لیے مشکلات پیدا ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔

ذوالفقار بابر کو فٹ ہونے کے باوجود ڈومیسٹک کرکٹ سے دور رکھنے کے ساتھ ساتھ زباں بندی کا بھی "حکم" دیا گیا کہ وہ اپنی فٹنس کے بارے میں زبان نہ کھولے تاکہ سلیکشن کمیٹی پر میڈیا میں سوالات کی بوچھاڑ نہ ہوجائے۔

ذوالفقار بابر 10 سال ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی دکھانے کے بعد 35 سال کی عمر میں قومی ٹیم تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور اپنی کارکردگی سے انہوں نے ثابت بھی کیا کہ گزشتہ سالوں میں انہیں پاکستانی ٹیم سے دور رکھ کر کتنی بڑی غلطی کی گئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کی باقی ماندہ کرکٹ کو پاکستان کے لیے استعمال کرکے اس غلطی کا ازالہ کیا جاتا جو کئی سال پہلے کی گئی مگر پاکستان کرکٹ بورڈ اس باصلاحیت اسپنر کی صلاحیتوں سے آگہی کے باوجود اسے باہر رکھ کر اس سے بھی بڑی غلطی کررہا ہے، جو بائیں ہاتھ کے اسپنر کا اعتماد رخصت کرنے اور مزید مایوس کرنے کا سبب بنے گی۔

Facebook Comments