آفریدی کے پرستاروں کی "آخری" امید بھی آئی سی سی نے ختم کردی

نیوزی لینڈ کے غیر معروف بلے باز کوری اینڈرسن کے ہاتھوں شاہد خان آفریدی کا قائم کردہ 17 سال پرانا ریکارڈ ٹوٹ جانے سے اک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ عام کرکٹ شائقین اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ نیوزی لینڈ-ویسٹ انڈیز تیسرا ون ڈے 21 اوورز فی اننگز پر مشتمل مقابلہ تھا، اس لیے وہ ون ڈے انٹرنیشنل نہیں کہلا سکتا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قوانین کے عین مطابق ایک ون ڈے مقابلہ ہی تھا اور کوری اینڈرسن نے ایک روزہ مقابلے میں ہی 36 گیندوں پر سنچری بنائی ہے یعنی کہ شاہد آفریدی کا ریکارڈ اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

قانون کے مطابق شاہد آفریدی کا ریکارڈ ٹوٹ چکا (تصویر: ICC)

قانون کے مطابق شاہد آفریدی کا ریکارڈ ٹوٹ چکا (تصویر: ICC)

اس حوالے سے کرک نامہ نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے قانونی مسودے چھانے تاکہ وضاحت ہوسکے تو 'ایک روزہ مقابلہ کھیلنے کے معیارات' (Standard ONE-day international match playing conditions) کے مطابق کسی بھی بارش متاثرہ مقابلے میں ضروری ہے کہ دونوں ٹیمیں کم از کم 20 اوورز کھیلیں، اسی صورت میں کوئی ون ڈے کھیلا جائے گا۔ کیونکہ نیوزی لینڈ-ویسٹ انڈیز مقابلہ 21 اوورز فی اننگز کا تھا، اس لیے اسے قانون کے مطابق ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ ہی تصور کیا جائے گا۔ یوں کوری اینڈرسن ہی ایک روزہ کرکٹ تاریخ کی تیز ترین سنچری بنانے والے بلے باز بن گئے ہیں۔

اینڈرسن 36 گیندوں پر سنچری مکمل کرنے کے بعد 131 رنز پر ناقابل شکست میدان سے لوٹے۔ انہوں نے شاہد آفریدی کا اکتوبر 1996ء میں نیروبی میں بنایا گیا 37 گیندوں پر سنچری کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔یوں شاہد کا نام تیز ترین ون ڈے سنچری بنانے والوں میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

آئی سی سی کے قوانین برائے ایک روزہ مقابلہ یہاں موجود دستاویز میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

Facebook Comments