بیٹنگ کا پھر جلوس نکل گیا!!

دبئی ٹیسٹ کے پہلے دن وکٹ ایسی بھی مشکل نہ تھی کہ سری لنکا کی اوسط درجے کی ’’میڈیم‘‘ فاسٹ باؤلنگ کے سامنے پاکستان کی بیٹنگ لائن کا جلوس نکل جاتا اور 1/78 کے پرسکون پوزیشن پر کھیلنے والی ٹیم کی اگلی 9 وکٹیں محض 87 پر گرجائیں؟ احمد شہزاد کی وکٹ گنوانے کے بعد خرم منظور اور محمد حفیظ نے پہلا سیشن خیریت سے گزار لیا تھا اور اینجلو میتھیوز کا ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کرنے کا فیصلہ غلط محسوس ہورہا تھا مگر کھانے کے وقفے کے بعد پاکستانی بیٹسمینوں نے جس لا پرواہی سے اپنی وکٹیں گنوائیں، اس میں سری لنکن میڈیم پیسرز کی عمدہ باؤلنگ سے زیادہ بیٹسمینوں کی خراب شاٹ سلیکشن کا ہاتھ تھا۔ یعنی ذمہ داری کا مکمل فقدان دکھائی دیا۔

صرف 87 رنز کے اضافے پر 9 وکٹیں اور وہ بھی سری لنکا کے خلاف؟ یہ بات ہضم کرنا مشکل ہے (تصویر: AFP)

صرف 87 رنز کے اضافے پر 9 وکٹیں اور وہ بھی سری لنکا کے خلاف؟ یہ بات ہضم کرنا مشکل ہے (تصویر: AFP)

2010ء میں یہاں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ کے بعد سے دبئی کی وکٹ بیٹسمینوں کے لیے خوف کی علامت رہی ہے جہاں پہلے دن باؤلرز کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔ حالیہ ٹیسٹ میچ سے قبل پاکستان نے یہاں دو مرتبہ میچ کے پہلی اننگز میں بیٹنگ کی اور دونوں مرتبہ پاکستان کی مضبوط بیٹنگ لائن 99پر ڈھیر ہوگئی اور شاید یہ نفسیاتی اثر تھا کہ اچھے بھلے آغاز کے بعد پاکستانی وکٹیں خزاں رسیدہ پتوں کی جھڑ گئیں۔ ماضی کے برعکس دبئی ٹیسٹ کی وکٹ بیٹنگ کے لیے کافی بہتر تھی، جہاں رنز بنانا مشکل نہ تھا اور خرم منظور نے یہ بات ثابت بھی کی مگر جب بیٹسمین خود اپنی وکٹیں گنوانے کے درپے ہوں تو پھر باؤلرز بھی شیر ہوجاتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ خرم منظور نے بھی اچھے آغاز کے بعد اپنی وکٹ گنوائی۔

کھانے کے وقفے کے بعد پاکستان کی پہلی وکٹ محمد حفیظ کی صورت میں گری جنہوں نے آگے گری ہوئی اِن سوئنگ گیند کو بیٹ اپنے جسم سے دور رکھ کر کھیلنے کی کوشش کی اور گیند بیٹ اور پیڈز کے درمیان سے راستہ بناتی ہوئی وکٹوں سے جاٹکرائی۔ محمد حفیظ ابھی تک ون ڈے کرکٹ کے سحر سے باہر نہیں آئے۔ ابوظہبی میں ڈرا کی جانب گامزن ٹیسٹ میں نصف سنچری اسکور کرکے ٹیم میں اپنی جگہ تو پکی کرلی مگر دبئی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ایک مرتبہ پھر ناکامی ’’پروفیسر‘‘ کا مقدر بن گئی۔دبئی میں کھیلے گئے دو ٹیسٹ مقابلوں کی پہلی اننگز میں ناکامی سے دوچار ہونے والے یونس خان نے اس مرتبہ بھی اپنا ’’ریکارڈ‘‘ برقرار رکھا۔ آف اسٹمپ سے باہر جاتی ہوئی گیند کو چھیڑتے ہوئے وکٹ کیپر کی صلاحیتوں کو آزمانے کی کوشش کی اور پرسنا جے وردھنے نے ایک عمدہ کیچ پکڑ کر پاکستان کے سب سے تجربہ کار بلے باز کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔یونس خان کو آؤٹ کرنے کے بعد ایرنگا نے اپنے اگلے اوور میں پاکستانی کپتان مصباح الحق کو وکٹوں کے عقب میں کیچ کرواکے قومی ٹیم کی بدقسمتی کا ’’ٹریگر‘‘کو دبا دیا جس کے بعد آنے والے بیٹسمین گراؤنڈ میں اپنی حاضری لگوانے کے بعد واپس آتے گئے ۔ مصباح الحق نے جس طرح اپنی وکٹ گنوائی اسے دیکھ ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھے ناظرین یقیناً اس سوچ میں پڑ گئے ہوں گے کہ سینئر بیٹسمینوں یونس خان اور مصباح الحق میں سے کس نے زیادہ اچھے انداز میں وکٹ کیپر کو کیچنگ پریکٹس کروائی۔بارہا ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ مصباح کے جلد آؤٹ ہوجانے کے بعد بیٹنگ لائن ریت کی دیوار کی طرح ڈھے جاتی ہے اور دوسرا کوئی بھی بلے باز آگے بڑھ کر ذمہ داری اٹھانے پر آمادہ نہیں ہوتا۔اسد شفیق کے پاس مرد بحران کا کردار نبھانے کا بہترین موقع تھا، لیکن وہ بھی توقعات پر پورا نہ اتر سکے اور اسی طرح سرفراز احمد کی واپسی بھی یادگار نہ ہوسکی۔

دبئی ٹیسٹ میں پاکستان کے پہلے 7 بیٹسمین فاسٹ باؤلنگ کا نشانہ بنے۔ جس انداز میں انہوں نے وکٹیں گنوائیں اسے دیکھ کر یہی لگ رہا تھا کہ شاید یہ میچ دبئی میں نہیں بلکہ کیپ ٹاؤن یا برسبین میں کھیل رہے ہوں ۔دبئی میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کسی ٹیم کی پہلی سات وکٹیں فاسٹ باؤلرز نے حاصل کی ہوں۔ اگر 2013ء میں پروٹیز فاسٹ باؤلرز یہ کارنامہ دکھاتے تو بات سمجھ میں آتی یا 2012ء میں انگلش پیس باؤلرز ایسا کرتے تو پاکستانی بیٹسمینوں کے لیے دل میں نرم گوشہ پیدا ہوسکتا تھامگر سری لنکا کے "فاسٹ" باؤلرز کے سامنے پاکستانی بیٹسمینوں کی شرمناک کارکردگی کا دفاع کسی طور پر بھی نہیں کیا جاسکتا ۔15 ٹیسٹ کھیلنے والالکمل اس میچ سے قبل 63.34کی بھاری اوسط سے صرف 23وکٹیں ہی لے سکے تھے، جبکہ شامنڈا ایرنگا 8 مقابلوں میں 24اور نوان پردیپ 4 میچز میں تین وکٹیں ہی حاصل کرپائے تھے۔ مگر اکثر و بیشتر پاکستان کے خلاف کھیلنے والے اوسط درجے کے کھلاڑی بھی اسٹارز بن جاتے ہیں اور اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہورہا ہے کیونکہ پاکستان کی بیٹنگ لائن بہت ہی دلچسپ ہے جو دنیا کے بہترین پیس اٹیک کے سامنے بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے جبکہ اوسط درجے کے میڈیم پیسرز بھی اس بیٹنگ لائن کا جلوس نکال دیتے ہیں ۔

Facebook Comments