پاک-آسٹریلیا سیریز، ایک ٹیسٹ گھٹا کر ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی شمولیت

تقریباً دو سال تک کوئی بھی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں ناکام رہنے والے پاکستان کو طویل طرز کی کرکٹ میں اگلا موقع رواں سال اکتوبر میں ملے گا جب بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے فیوچر ٹورز پروگرام (ایف ٹی پی) کے مطابق پاکستان تین ٹیسٹ مقابلوں کے لیے آسٹریلیا کی میزبانی کرے گا۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 2010ء میں دو ٹیسٹ میچز کی سیریز انگلستان میں کھیلی گئی تھی (تصویر: Getty Images)

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 2010ء میں دو ٹیسٹ میچز کی سیریز انگلستان میں کھیلی گئی تھی (تصویر: Getty Images)

گو کہ پاکستان کے میدانوں میں اس سیریز کے انعقاد کے امکانات ایک فیصد بھی نہیں، لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ خواہاں ہے کہ صرف ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز میں کچھ ایسی تبدیلیاں ہوں کہ یہ اپنے میدانوں پر مقابلوں کے عدم انعقاد کے باعث مالی مسائل سے دوچار پی سی بی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ تین ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز میں سے ایک ٹیسٹ کم کرکے محدود اوورز کے چند "منافع بخش" مقابلے کروانے کا خواہاں ہے اور کرکٹ آسٹریلیا اس پر رضامند بھی دکھائی دیتا ہے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو جیمز سدرلینڈ نے چند روز قبل ہی کہا تھا کہ توقعات کے مطابق پاک-آسٹریلیا سیریز متحدہ عرب امارات میں ہوگی اور اس میں تین ٹیسٹ میچز کے بجائے دو ٹیسٹ اور چند ایک روزہ مقابلے کھیلے جائیں گے۔

ظاہر تو یہی کیا جا رہا ہے کہ محدود اوورز کے مقابلوں کے انعقاد کا سبب عالمی کپ 2015ء ہے، جو اگلے سال فروری و مارچ میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہوگا لیکن حقیقت یہی ہےکہ تین ٹیسٹ میچز کی سیریز سے پاکستان کو کچھ زیادہ مالی فائدہ حاصل نہ ہوگا اور پی سی بی کے خساروں کے کم کرنے کے لیے بورڈ مختصر اوورز کے مقابلے بھی کروانا چاہتا ہے جن میں ممکنہ طور پر تین ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی شامل ہوگا۔

فی الحال تو ایسا ہی لگتا ہے کہ سیریز گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کے میزبان متحدہ عرب امارات میں کھیلی جائے گی لیکن اس امر کا بھی امکان ہے کہ سیریز قطر میں کھیلی جائے کیونکہ پی سی بی نے وہاں موجود سہولیات اور اس سے بڑھ کر ہونے والے اخراجات کا جائزہ لینے کے لیے ایک سہ ملکی ویمنز سیریز منعقد کی ہے جو اس وقت دوحہ میں جاری ہے۔

پاکستان نے آخری مرتبہ 2010ء میں انگلستان کےمیدانوں میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلی تھی، جو دو مقابلوں پر ہی مبنی تھی اور ایک-ایک سے برابر ہوئی تھی۔

Facebook Comments