’’ڈرا‘‘ پر ہی گزارہ کرلو!!

شارجہ میں احمد شہزاد کو اولین ٹیسٹ سنچری مبارک ہو مگر سیریز کے آخری ٹیسٹ میں نہ ہی پاکستان کی کوئی منصوبہ بندی دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی کہیں ایسا لگ رہا ہے کہ قومی ٹیم اس مقابلے کو جیتنے کی کوشش کررہی ہے جہاں اس کو درپیش صورتحال ’مارو یا مر جاؤ‘ جیسی ہے۔

پاکستان کو جارحانہ حکمت  عملی کے ساتھ میدان میں اترنے کی ضرورت تھی ۔ لیکن ۔۔۔۔ (تصویر: AFP)

پاکستان کو جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترنے کی ضرورت تھی ۔ لیکن ۔۔۔۔ (تصویر: AFP)

تیسرے دن کے کھیل کے اختتام پر پاکستان ٹیم کا خسارہ 137 رنز ہے، اور محض چار وکٹیں باقی ہیں جبکہ وکٹ میں ایسا کچھ نہیں جو بلے بازوں کو مشکلات میں مبتلا کرسکے۔ اس لیے بظاہر یہ مقابلہ نتیجے کی جانب دکھائی نہیں دے رہا، اس لیے اگر پاکستانی ٹیم نے چوتھے روز کوئی غیر معمولی کارکردگی نہ دکھائی تو 12 سال کے بعد پاکستان پہلی بار متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ سیریز ہار جائے گا۔

سری لنکا کے 428 رنز کے جواب میں پاکستان نے دوسرے دن کے کھیل کا خاتمہ 19 رنز کے ساتھ کیا تو تیسرے دن کا کھیل پاکستان کے لیے بہت اہم تھا۔ ایک اچھے رن اوسط کے ساتھ کھیل کر پاکستان سری لنکا کو دباؤ میں لا سکتا تھا مگر جس طرح پاکستانی بلے بازوں نے بیٹنگ کی اسے دیکھتے ہوئے یہی لگ رہا تھا کہ پاکستان جیتنے کے لیے نہیں بلکہ ڈرا کے لیے کھیل رہا ہے۔ اوپنرز نے 48.3 اوورز میں محض 2.36 کے رن اوسط کے ساتھ 114رنز بنا کر سری لنکا کے گیم پلان کے عین مطابق بیٹنگ کی۔ پاکستان نے مجموعی طور پر 89.3 اوورز میں تین رنز کے اوسط سے 272 رنز بنائے۔ اس لیے اگر صرف اوپنرز ہی اپنی باری لینے اور ٹیم میں جگہ پکی کرنے کی کوشش میں سست بیٹنگ کے بجائے قدرے تیز بلے بازی کرتے تو آج سری لنکا کی برتری 100 رنز سے کم ہوچکی ہوتی۔

کپتان مصباح الحق متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ ٹیسٹ میں پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط کرنےکے بعد جیت کی جانب پیشقدمی کرتے ہیں اور شارجہ میں ٹیسٹ کے تیسرے دن شاید انہوں نے یہی کیا کیونکہ تیز کھیلنے کی کوشش میں اگر پاکستان کی دو تین وکٹیں جلد گر جاتیں تو پھر شکست سے بچنا مشکل ہو سکتا تھا مگر شارجہ ٹیسٹ میں ’’کرویا مرو‘‘ والی صورتحال سے دوچار تھی لیکن یہ شاید نہ کرنا چاہتے ہیں اور نہ مرنا!

شارجہ کی وکٹ کس نے بنائی؟ اور ایسی مردہ وکٹ کیوں بنائی گئی؟ یہ ایک لمبی بحث ہے لیکن شارجہ میں ٹاس ہارنے کے بعد فیلڈنگ کرنے والے پاکستانی کپتان کو جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترنے کی ضرورت تھی، جس کا ابتداء ہی سے فقدان دکھائی دیااور دو دن فیلڈ میں رہنے والے کپتان نے سری لنکا کے لوئر آرڈر کو پھانسنے کے لیے جارحانہ فیلڈ ترتیب نہیں دی بلکہ 166کے اسکور پر پہلی 5 وکٹیں حاصل کرلینے کے بعد پاکستانی بالرز نے ساتویں وکٹ پر 112رنز بنوا کر مقابلہ ہاتھ سے گنوا دیا۔ سری لنکن ٹیم نے دو دن میں 428ر نز بنا کر ڈرا کی جانب سفر جاری رکھا جبکہ پاکستانی کپتان درست حکمت عملی اختیار کیے بغیر سری لنکن بیٹسمینوں کو آسانی سے رنز بنانے دیا جس کے باعث پاکستانی ٹیم اس میچ میں جیت کی پوزیشن سے کوسوں دور ہے۔

آج ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن مصباح الحق کو جارحانہ انداز سے بیٹنگ کرتے ہوئے پہلے گھنٹے میں اسکور میں 50-60 رنز کا اضافہ کرکے اننگز کو ڈکلیئر کرنا ہوگا تاکہ میچ کو نتیجہ خیز بنایا جاسکے کیونکہ دفاعی انداز سے کھیلتے ہوئے میچ ڈرا کرنے کی بجائے پاکستانی ٹیم کو جیت کے لیے کوشش کرنا چاہیے اور سیریز ڈرا کرنے کی یہی ایک صورت ہے لیکن جس طرح پاکستانی ٹیم کھیل رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے نہیں لگتا کہ مصباح الحق میچ جیتنے کی طرف جائیں گے کیونکہ پہلی اننگز میں سری لنکا کی پوری ٹیم کو آؤٹ کرنے میں ناکام رہنے والی پاکستانی بالنگ لائن میں اتنا دم خم نظر نہیں آتا کہ وہ دوسری باری میں سری لنکا کو قلیل اسکور پر آؤٹ کرسکے اور نہ پاکستان کی بیٹنگ لائن اس قابل ہے کہ پانچویں دن 250 کے لگ بھگ مجموعے کا دلیری کے ساتھ تعاقب کرسکے ۔اس لیے دفاعی انداز سے کھیلتے ہوئے میچ ڈرا کروالینا ہی غنیمت ہوگی اور دو چار دن ٹیسٹ ٹیم کی کارکردگی کو لتاڑنے کے بعد شائقین بھی محدود اوورز کی کرکٹ کی رنگینیوں میں گم ہوجائیں گے اور آٹھ ماہ بعد جب پاکستانی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں آسٹریلیا کا سامنا کرے گی تو سری لنکا کیخلاف سیریز کا نتیجہ شاید دھندلا چکا ہو مگر آخری ٹیسٹ میں ’’عمدہ‘‘ پرفارمنس دینے والے کھلاڑیوں کو ضرور منتخب کرلیا جائے گا!!

Facebook Comments