واٹمور قومی ٹیم کو جیت کی عادت نہ ڈال سکے

شارجہ ٹیسٹ کی تاریخی کامیابی کے ساتھ ہی ڈیو واٹمور کا پاکستان کے ساتھ کوچنگ کیریئر بھی خوشگوار انداز میں اپنے اختتام کو پہنچا۔ مجموعی طور پر یہ عرصہ قومی ٹیم کے لیے مایوس کن رہا کیونکہ غیر ملکی کوچ اپنی دو سالہ تعیناتی میں پاکستانی ٹیم کی ٹیسٹ سیریز جیتنے کی حسرت دل ہی میں لیے رہے یہاں تک کہ پاکستان زمبابوے کو بھی سیریز میں زیر نہ کرسکا۔ پاکستان ان کے دور میں 13 میں سے صرف 3 ٹیسٹ میچز جیت سکا، 7 میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا جس کی توجیہہ واٹمور یہ پیش کرتے ہیں کہ ان 13 میں سے 5 ٹیسٹ انہیں عالمی نمبر ایک جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلنے پڑے۔

دو سالوں میں قومی ٹیم کی کارکردگی میں کوئی بہتری نہ آئی، ایسا لگتا ہے کہ کوئی کوچ نہ منسلک کیا جائے پھر بھی پاکستان کی کارکردگی کم و بیش ایسی ہی ہوگی (تصویر: AFP)

دو سالوں میں قومی ٹیم کی کارکردگی میں کوئی بہتری نہ آئی، ایسا لگتا ہے کہ کوئی کوچ نہ منسلک کیا جائے پھر بھی پاکستان کی کارکردگی کم و بیش ایسی ہی ہوگی (تصویر: AFP)

ایک روزہ طرز میں واٹمور نے آغاز ایشیا کپ کی فتح کے ساتھ کیا اور پھر بھارت اور جنوبی افریقہ کو ان کے ملکوں میں شکست دینا بھی واٹمور کے سر جاتا ہے لیکن انہی کے عہد میں پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی میں ابتدائی تینوں مقابلوں میں شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہونا پڑا۔ مجموعی طور پر ان کی زیر نگرانی پاکستان نے 47 ایک روزہ مقابلے کھیلے، 22 جیتے اور اتنے ہی مقابلوں میں گرین شرٹس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں کھیلے گئے 25 میں سے 15 مقابلے پاکستان نے جیتے اور 9 میں شکست کھائی۔

ڈیو واٹمور نے اپنے الوداعی بیان میں یہ ضرور کہا ہے کہ وہ بیزار ہوکر واپس نہیں جا رہے۔ لیکن معاہدے کی تجدید کی خواہش نہ کرنا ان کی بیزاری ہی کو ظاہر کرتا ہے جو اپنی زیر نگرانی پاکستان کو وہ مقام نہ دلوا سکے، جس کی ان سے توقع تھی۔

الوداعی مقابلے میں پاکستان نے غیر معمولی کھیل پیش کرکے واٹمور کو فتح کا تحفہ دے کر رخصت کیا، لیکن بحیثیت مجموعی سری لنکا کے خلاف سیریز میں واٹمور ٹیم سے لاتعلق دکھائی دیے۔ ڈیو ایک ہائی پروفائل کوچ تصور کیے جاتے تھے، جن کا کوچنگ ریکارڈ بہت ہی شاندار تھا مگر پاکستان میں ان کا انداز کہیں نہیں جھلکا۔ پاکستانی ٹیم آج بھی اسی طرح میدان میں اترتی ہے، جس طرح واٹمور سے قبل بغیر کسی منصوبہ بندی کے آتی تھی۔ ٹیسٹ کو ایک طرف رکھیے کہ تسلسل کے ساتھ ٹیسٹ میچز نہ ملنا اس فارمیٹ میں پاکستان کی واجبی کارکردگی کا سبب ہے لیکن ایک روزہ یا ٹی ٹوئنٹی میں بھی واٹمور ٹیم کو فاتح کے روپ میں نہ ڈھال سکے۔ بالخصوص چیمپئنز ٹرافی جیسے اہم ایونٹ میں گرین شرٹس جس طرح باآسانی ڈھے گئے، اس سے ثابت ہوا کہ واٹمور کی کوچنگ انہیں اجنبی ماحول میں کارکردگی کے قابل نہیں بنا پائی۔

ان دو سالوں میں قومی کرکٹ ٹیم کی مجموعی کارکردگی کو مایوس کن تو نہیں کہا جا سکتا لیکن اس میں بہتری بھی بالکل نہیں دکھائی دی۔ یہی وہ کارکردگی تھی جو واٹمور کی آمد سے قبل پاکستان دکھاتا رہا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی کوچ منسلک نہ کیا جائے تب بھی پاکستانی ٹیم کم و بیش ایسی ہی کارکردگی دکھائے گی۔ بھاری معاوضے کے ساتھ دو سال کے طویل معاہدے پر ڈیو واٹمور کی تقرری کا مقصد ہی یہی تھا کہ وہ قومی ٹیم میں جیت کی عادت کو پروان چڑھا سکیں اور ٹیم مستقل مزاجی کے ساتھ کارکردگی پیش کرے لیکن وہ ٹیم کے انداز و اطوار میں کوئی تبدیلی نہ کرسکے۔

پاکستان پہلے بھی ایسی ٹیم تھا، جس کے بارے میں پیشن گوئی نہیں جاسکتی تھی، اور واٹمور کے کوچنگ عہد کے آخری دن بھی یہ ویسی ہی ٹیم رہی۔ ایک دن زمبابوے سے ہارنے والی ٹیم اگلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کو ناکوں چنے چبوا ڈالے۔ آئرلینڈ کے خلاف مقابلہ بمشکل ٹائی کرنے والی یہی ٹیم پھر بھارت اور جنوبی افریقہ کو ان کے گھروں میں شکست دیتی ہے۔ یہ ٹیم کل بھی ایسی تھی، آج بھی ایسی ہی ہے اور شاید آئندہ کل بھی ایسی ہی رہے۔ درحقیقت، غیر مستقل مزاجی اور کارکردگی میں عدم تسلسل پاکستان کرکٹ کا کلچر بن چکا ہے، جسے واٹمور نہ بدل سکے بلکہ خود بھی حالات کے دھارے میں بہتے چلے گئے۔

واٹمور پاکستان میں اپنی اننگز مکمل کرنے کے بعد واپس جاچکے ہیں۔ ان کی واجبی سی کارکردگی کے باعث پاکستان میں غیر ملکی کوچ کا باب بھی بند ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ جیف لاسن کی طرح ڈیو واٹمور بھی کوئی بڑا کارنامہ انجام نہ دے سکے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اگلے کوچ کے لیے دیے گئے اشتہار میں "کوالیفائیڈ" کی شرط ختم کردی ہے، جس سے مقامی کوچ کی تقرری کا امکان کافی روشن ہوگیا ہے۔

فی الحال تو واٹمور کے دو سالہ عہد کو نہیں سراہا جارہا، کیونکہ پاکستان ان کی زیر نگرانی زیادہ فتوحات کشید نہیں کرسکا مگر ان دو سالوں میں انہوں نے جس طرح کھلاڑیوں کو اپنے تابع رکھا اور ڈریسنگ روم کا ماحول بہتر رکھا، اس کی کمی ملکی کوچ کی تقرری کے بعد شاید محسوس ہو۔ پاکستان کی کارکردگی میں تو نئے کوچ کی زیر تربیت بھی کوئی انقلابی تبدیلی آنے کی توقع نہيں، لیکن ڈریسنگ روم کے "ہنگامے" ضرور اخبارات کا پیٹ بھریں گے!!

Facebook Comments