وقار...بااختیار؟؟

ہمارے ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ برسوں سے یہی رونا رورہے ہیں کہ ان کے پاس اختیارات نہیں ہیں اس لیے وہ صوبے میں امن و امان قائم کرنے کے حوالے سے بے بس ہیں ۔اُن پر تنقید بھی اسی لیے ہوتی ہے کہ وہ سب سے بڑا منصب رکھنے کے باوجود کچھ نہیں کررہے ہیں لیکن اُن کا کہنا بھی درست ہے کہ ’’میرے پاس اختیارات نہیں ہیں‘‘۔

کہيں اختیارات کی جنگ میں پاکستان کرکٹ کا تو نقصان نہیں ہوگا؟ (تصویر: Getty Images)

کہيں اختیارات کی جنگ میں پاکستان کرکٹ کا تو نقصان نہیں ہوگا؟ (تصویر: Getty Images)

پاکستان میں اختیارات تو صرف طاقتوروں کے پاس ہی ہوتے ہیں جو کرسی پر بیٹھنے والوں کی ڈوریں اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہیں شاید اسی لیے سابق فاسٹ بالر وقار یونس نے نجم سیٹھی سے مکمل اختیارات کے ساتھ ہیڈ کوچ کا عہدہ قبول کرنے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ ماضی میں وقار یونس کا بے اختیار ہونا ہی ان کیلئے سب سے بڑی مشکل کا سبب بن گیا تھا۔پی سی بی کے چیئرمین اور کہنہ مشق صحافی نجم سیٹھی کی یہ خوبی ہے کہ وہ کسی کو انکار نہیں کرتے اور یہ شرارتی مسکراہٹ ہمیشہ اُن کے ہونٹوں پر رقصاں رہتی ہے جبکہ سیٹھی صاحب خود کسی کا وفادار بننے کا ارادہ کرلیں یا کسی کو اپنانے کا ٹھان لیں تو پھروہ تن من دھن سے اس کام میں جُت جاتے ہیں۔ معین خان پر نجم سیٹھی کی نوازشات سب کے سامنے ہیں کہ وہ ایک ایک کرکے ہر عہدہ معین خان کی جھولی میں پھینکتے جارہے ہیں۔ مصباح الحق کی ٹانگ کھینچنے کی لاکھ کوششیں کیوں نہ کی جائیں لیکن سیٹھی صاحب نے ٹھان لیا ہے کہ ورلڈ کپ میں مصباح الحق ہی کپتان ہونگے اس لیے اب کوئی جو چاہے کرتا رہے نجم سیٹھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے حوالے سے نجم سیٹھی کی نظریں وقار یونس پر تھیں جو دو مرتبہ قومی ٹیم کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں اور بطور کھلاڑی بھی ان کی عظمت پر شک نہیں کیاجاسکتا۔معین خان کی بطور ہیڈ کوچ ناکامی کے بعد نجم سیٹھی نے کوچز کی تقرری کیلئے اشتہار کا ڈرامہ رچا کر وقار یونس کو پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کیلئے راضی کرلیا مگر اس مرتبہ وقار یونس نے ہیڈ کوچ بننے کو چند شرائط کے ساتھ مشروط کردیا۔ وقار یونس کی ایک شرط بھاری معاوضہ تھا کہ انہیں بھی اتنے پیسے دیے جائیں جتنے پی سی بی ڈیو واٹمور کو دیتا تھا اس شرط کے سامنے نجم سیٹھی نے سر جھکا دیا اور پھر وقار یونس نے مکمل اختیارات کے ساتھ ہیڈ کوچ بننے کی شرط رکھی اور یہ شرط بھی منظور کرلی گئی۔

وقار یونس چاہتے ہیں اسکواڈ کے انتخاب میں ان کی رائے کو اہمیت دی جائے اور پلیئنگ الیون کا انتخاب وہ کپتان کے ساتھ مل کر کریں۔معین خان کی سربراہی میں چھ رکنی سلیکشن کمیٹی ٹیم کے انتخاب میں وقار یونس کی رائے کو کتنی اہمیت دے گی اس کا اندازہ دورہ سری لنکا کیلئے ٹیم کی سلیکشن سے ہوجائے گا۔ ہیڈ کوچ کا عہدہ حاصل کرنے کے بعد وقار یونس نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ورلڈ کپ کیلئے ٹیم تیار کرنا چاہتے ہیں۔ ٹیم کی ’’تیاری‘‘ سلیکشن کمیٹی کا کام ہے اور وقار یونس کی جاب فراہم کردہ کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بہتر کرنا ہے ۔ اس کے علاوہ پلیئنگ الیون کا انتخاب کرتے ہوئے مینجر کی رائے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو سلیکشن کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔اس لیے محسوس ہورہا ہے کہ جلد ہی اَنا کے ماؤنٹ ایورسٹ پر کھڑے دونوں سابق کپتان ایک دوسرے کو دھکا دینے کی کوشش کریں گے۔

نجم سیٹھی نے تو کہہ دیا ہے کہ معین اور وقار دونوں سمجھدار ہیں اور اپنی حدود میں رہ کر کام کریں گے لیکن جس طرح پی سی بی کے چیئرمین بچگانہ فیصلے کرتے ہیں اسی طرح ٹیم مینجمنٹ کے اراکین سے بھی سمجھداری کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔معین خان اگرخود کو ’’باس‘‘ ثابت کرنے کی کوششیں کررہے ہیں تووقار یونس کو بھی چیئرمین کی آشیرباد حاصل ہے۔وقار یونس پاکستان کرکٹ کا کھویا ہوا وقار واپس دلانے کا عزم لے کر آئے ہیں اس لیے اگر معین اور وقار اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں تو پاکستان کرکٹ کی بہتری ممکن ہے ورنہ اختیارات کی جنگ میں پاکستان کرکٹ کا نقصان ہوگا اور شاید وقار کو پھر بے اختیار اور بے توقیر ہوکر وقت سے پہلے واپس جانا پڑے!

Facebook Comments