گھر کا بھیدی، اینٹی کرپشن افسر ہی سٹے بازوں کا ساتھی نکلا

میچ اور اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی یونٹ کی اندر کی رپورٹیں منظرعام پر آنے سے عالمی کرکٹ کے کرتا دھرتاؤں کی بہت جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ آئی سی سی کہتا ہے کہ وہ معاملے کی فوری تحقیقات کروائے گا اور اس میں ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دے گا۔

بنگلہ دیشی ٹیلی وژن چینل نے اینٹی کرپشن افسر کی سٹے باز کے ساتھ گفتگو نشر کرکے آئی سی سی کے حلقوں میں تہلکہ مچا دیا ہے (تصویر: AFP)

بنگلہ دیشی ٹیلی وژن چینل نے اینٹی کرپشن افسر کی سٹے باز کے ساتھ گفتگو نشر کرکے آئی سی سی کے حلقوں میں تہلکہ مچا دیا ہے (تصویر: AFP)

آخر اینٹی کرپشن یونٹ کی خفیہ رپورٹیں کس طرح برطانوی ذرائع ابلاغ کے ہاتھ لگیں؟ یہ بات آئی سی سی حکام کے لیے خاصی تشویشناک ہے لیکن بنگلہ دیش کے ایک ٹیلی وژن چینل نے ان کی مشکلات کو کچھ آسان کردیا ہے۔ اینٹی کرپشن یونٹ کا ایک افسر، جو بھارت سے تعلق رکھتا ہے، کی ہم وطن سٹے بازوں کے ساتھ گفتگو کی ریکارڈنگ منظرعام پر آ گئی ہے۔ بنگلہ ٹریبیون نامی چینل کے مطابق سٹے باز کو ڈھاکہ پولیس نے کچھ عرصہ قبل گرفتار کیا تھا لیکن اینٹی کرپشن یونٹ کے اسی افسر نےاس شخص کو اپنا ایجنٹ قرار دیا اور اسے رہا کرنے کی سفارش کی۔ جس پر اسے رہا تو کردیا گیا لیکن پولیس کے کان کھڑے ہوچکے تھے۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کے دوران اس سٹے باز اور افسر کے درمیان ہونے والی گفتگو کو ریکارڈ کیا گیا جس میں وہ سٹے باز کو مشورہ دیتے سنائی دیتے ہیں کہ وہ بنگلہ دیش چھوڑ دے کیونکہ وہ لوگوں کی نظروں میں آ چکا ہے اور اب کی مرتبہ گرفتار ہونے کی صورت میں اسے چھڑوانا بہت مشکل ہوگا۔

فوری طور پر پراس معاملے پر آئی سی سی کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا لیکن گزشتہ روز چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے اتنا ضرور کہا تھا کہ لو ونسنٹ اور برینڈن میک کولم کے بیانات کاذرائع ابلاغ کے ہاتھ لگ نے سے اینٹی کرپشن یونٹ کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ برطانوی اخبارات میں یہ بیان پڑھ کر مجھے سخت مایوسی ہوئی اور اس کے ذمہ داران کا تعین کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

نیوزی لینڈ کے سابق بلے باز لو ونسنٹ نے 2008ء سے 2012ء کے درمیان متعدد مقابلوں کے فکس ہونے کا انکشاف کیا ہے جبکہ برینڈن میک کولم نے اینٹی کرپشن یونٹ کو بتایا تھاکہ انہیں خراب کارکردگی کے عوض پونے دو لاکھ ڈالرز کی پیشکش کی گئی تھی جو انہوں نے ٹھکرا دی۔ اس معاملے کی تحقیقات کے ساتھ اب آئی سی سی پر دہری ذمہ داری ہے کہ وہ ان خفیہ رپورٹوں کے منظرعام پر آنے کا سراغ لگائے اور ساتھ ساتھ اینٹی کرپشن یونٹ میں موجود کالی بھیڑوں کی بھی نشاندہی کرے۔

Facebook Comments