نجم سیٹھی کو پھر ہٹا دیا گیا، پی سی بی میں ایک ماہ میں نئے انتخابات ہوں گے

نجم سیٹھی کو ایک مرتبہ پھر عہدے سے ہٹاتے ہوئے ایک سابق جج کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا قائم مقام سربراہ بنا دیا گیا ہے، جن کی ذمہ داری ایک مہینے کے اندر اندر بورڈ میں نئے انتخابات کروانا ہوگی۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نجم سیٹھی کو قانونی طریقے سے پی سی بی کا سربراہ بنانا چاہتی ہے اور یہ نئی پیشرفت اسی سلسلے کی کڑی لگتی ہے

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نجم سیٹھی کو قانونی طریقے سے پی سی بی کا سربراہ بنانا چاہتی ہے اور یہ نئی پیشرفت اسی سلسلے کی کڑی لگتی ہے

جسٹس انور ظہیر جمالی کی زیر قیادت دو رکنی بینچ کے روبرو پی سی بی چیئرمین تقرری کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان سلمان اسلم نے بورڈ کے نئے آئین کے مطابق نئی انتظامیہ کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا جس کے تحت جسٹس ریٹائرڈ جمشید علی شاہ کو آئندہ ایک ماہ کے اندر انتخابات کروانے کے لیے الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا ہے جبکہ وہ اس دوران قائم مقام چیئرمین کا عہدہ بھی سنبھالیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے یہ نیا آئین نجم سیٹھی کی زیر قیادت انتظامی کمیٹی نے ترتیب دیا تھا اور اس کو مرتب کرنے والے افراد میں جمشید علی شاہ بھی شامل تھے۔ اس آئین کی منظوری گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان اور پیٹرن ان چیف پی سی بی نواز شریف نے دی تھی۔

عدالت میں پیش کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق انتظامی کمیٹی بدستور انہی اراکین پر مشتمل ہوگی جو نجم سیٹھی کی زیر قیادت کام کرتے رہے ہیں اور قائم مقام چیئرمین محض روز مرہ معاملات دیکھیں گے اور ان کی بنیادی ذمہ داریاں انتخابات کا بروقت انعقاد، نئے آئین کا نفاذ اور کرکٹ بورڈ کو فعال رکھنا ہوں گی۔

نجم سیٹھی اور ذکا اشرف کے درمیان رسہ کشی کے نتیجے میں پاکستان کرکٹ بورڈ گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے انتظامی بحران کا شکار ہے اور بار بار عدالت کی مداخلت کی وجہ سے معاملات روز بروز گمبھیر ہوتے جا رہے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سابق چیئرمین ذکا اشرف کو ہٹا کر نجم سیٹھی کو بحال کرنے والی حکومت اب قانونی طریقے سے نجم سیٹھی کو لانے کی خواہشمند ہے تاکہ یہ روز روز کے عدالت کے چکروں سے جان چھوٹ جائے۔

Facebook Comments