[ریکارڈز] صہیب اور فواد کی پاکستان کے لیے چھٹی وکٹ پر طویل ترین شراکت داری

پاکستان دنیائے کرکٹ کی 'ناقابل اعتبار ترین' ٹیم ہے، اور اس شہرت کا سبب بلے بازوں کی کارکردگی ہے۔ جیتا ہوا مقابلہ کیسے ہارا جاتا ہے اور ہارا ہوا مقابلہ کیسے جیتا جاسکتا ہے، اس کے لیے پاکستان کے مقابلوں کو ضرور دیکھا جانا چاہیے۔

ریکارڈ شراکت داری میں صہیب نے 79 اور فواد نے 57 رنز جوڑے

ریکارڈ شراکت داری میں صہیب نے 79 اور فواد نے 57 رنز جوڑے

آج سری لنکا کے خلاف ایک روزہ سیریز کے پہلے مقابلے میں بھی کچھ ایسی ہی داستان دہرائی گئی۔ 45 اوورز میں 275 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کے ابتدائی پانچ بلے باز صرف 106 رنز پر میدان بدر ہوگئے تھے تو ایسا محسوس ہونے لگا کہ آج ایک اور شکست پاکستان کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ لیکن نوجوان بلے بازوں صہیب مقصود اور فواد عالم نے نوشتہ دیوار کو مٹاتےہوئے واضح شکست کو ایک شاندار فتح میں بدل دیا۔ دونوں نے چھٹی وکٹ پر 147 رنز کی طویل شراکت داری قائم کرکے 31 سال پرانا قومی ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

پاکستان کی جانب سے ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں چھٹی وکٹ پر سب سے بڑی شراکت داری کا ریکارڈ عمران خان اور شاہد محبوب کے پاس تھا جنہوں نے عالمی کپ 1983ء کے ایک مقابلے میں سری لنکا ہی کے خلاف 144 رنز کی ساجھے داری کی تھی۔ اس مقابلے میں ان دونوں کی شراکت داری ہی فتح کا سبب بنی کیونکہ پاکستان صرف 43 رنز پر پانچ وکٹوں سے محروم ہوگیا تھا اورعمران خان کے ناقابل شکست 102 رنز اور شاہد محبوب کے 77 رنز کی بدولت 235 رنز جوڑنے میں کامیاب رہا۔ جواب میں عبد القادر کی تباہ کن باؤلنگ کے باوجود سری لنکا ہدف کے بہت قریب پہنچ گیا لیکن 224 رنز پر جاکر ان کی اننگز دم توڑ گئی جب وہ ہدف سے صرف 12 رنز کے فاصلے پر تھے۔

مجموعی طور پر ایک روزہ کرکٹ میں پاکستان کے کھلاڑیوں نے چھٹی وکٹ پر سات سنچری شراکت داریاں قائم کی ہیں جن میں سے دو موجودہ کپتان مصباح الحق اور آل راؤنڈر شاہد آفریدی کے درمیان قائم ہوئی ہیں۔ دونوں نے پہلی بار 2008ء میں زمبابوے کے خلاف 116 رنز اور دوسری بار 2013ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف چھٹی وکٹ کے لیے 120 رنز کی شراکت کی۔

دلچسپ بات یہ ہےکہ سات میں سے تین شراکت داریوں میں شاہد خان آفریدی شامل رہے ہیں۔ ان کی تیسری سنچری ساجھے داری کامران اکمل کے ساتھ رہی جس میں 2007ء میں دونوں ناقابل شکست و فاتحانہ پارٹنرشپ کے ذریعے سری لنکا کو شکست دی تھی۔ بلکہ ان تینوں ہی مقابلے میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی۔
ویسے چھٹی وکٹ پر پاکستان کے لیے ایک بہترین لیکن غیر معروف رفاقت محمد یوسف اور عبدالرزاق کے درمیان ہوئی تھی۔ 2006ء میں "دنیائے کرکٹ کے ننھوں" میں شمار ہونے والے اسکاٹ لینڈ کے خلاف 204 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے پاکستان کے ابتدائی پانچ بلے باز صرف 95 رنز کے مجموعے پر پویلین لوٹ گئے تھے، محمد یوسف اور عبدالرزاق نے 112 رنز کی ناقابل شکست شراکت داری قائم کر کے پاکستان کی لاج رکھی۔

اس وقت ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں چھٹی وکٹ پر طویل ترین شراکت داری کا ریکارڈ بھارت کے کپتان مہندر سنگھ دھونی اور سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے کے پاس ہے۔ حیران مت ہوں، 2007ء میں ایشیا الیون کی جانب سے افریقہ الیون کے مابین ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ کھیلا گیا تھا جس میں دونوں کھلاڑیوں نے چھٹی وکٹ پر 218 رنز بنائے تھے۔

ایک روزہ بین الاقومی کرکٹ میں چھٹی وکٹ پر پاکستان کی طویل ترین شراکت داریاں

کھلاڑیوں کے نام مخالف ٹیم رنز مقام تاریخ
فواد عالم صہیب مقصود سری لنکا 147 ہمبنٹوٹا اگست 2014ء
عمران خان شاہد محبوب سری لنکا 144 لیڈز جون 1983ء
مصباح الحق شاہد آفریدی ویسٹ انڈیز 120 پروویڈنس جولائی 2013ء
مصباح الحق شاہد آفریدی زمبابوے 116 ملتان جنوری 2008ء
محمد یوسف عبدالرزاق اسکاٹ لینڈ 112* ایڈنبرا جون 2006ء
محمد یوسف (یوسف یوحنا) معین خان اسکاٹ لینڈ 103 چیسٹر لی اسٹریٹ مئی 1999ء
کامران اکمل شاہد آفریدی سری لنکا 102* ابوظہبی مئی 2007ء

Facebook Comments