صہیب مقصود اس بار قربانی سے بچ گئے، لیکن کیا آئندہ بھی۔۔۔؟

پہلے ون ڈے میں پاکستانی ٹیم نے شاندار کامیابی حاصل کر کے سری لنکا کے ہاتھوں شکستوں کے تسلسل کو توڑ دیا ہے جس کیلئے صہیب مقصود کی فتح گر اور فواد عالم کا انتہائی اہم سپورٹنگ رول سرا ہے جانے کے قابل ہے۔ اس کامیابی پر ڈھول تاشے بجنے چاہیے اور مٹھائیاں بھی بٹنی چاہیے کیونکہ نئے چیئرمین، نئے کوچ اور نئی سلیکشن کمیٹی کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم نے پہلی کامیابی حاصل کرلی ہے۔

جس کھلاڑی کو باہر کرنے کی باتیں کی جارہی تھیں وہی کھلاڑی میچ کا ہیرو بن کر ابھرا ہے

جس کھلاڑی کو باہر کرنے کی باتیں کی جارہی تھیں وہی کھلاڑی میچ کا ہیرو بن کر ابھرا ہے

45اوورز میں 277 رنز کا ہدف حاصل کرلینا یقینا بہت بڑی کامیابی ہے جس کیلئے پاکستانی ٹیم کو تین "نوجوان" کھلاڑیوں کا احسان مند ہونا چاہیے جنہوں نے ہاری ہوئی بازی کو جیت میں بدل دیا۔ لیکن پہلے یہاں مختصراً بالنگ لائن کی بات کرلوں کہ فاسٹ بالر جنید خان کو 9 اوورز میں 75 رنز کا جرمانہ ادا کرنا پڑا اور ٹیم کے سب سے سینئر آل راؤنڈر شاہد آفریدی بھی 57 رنز کے بدلے کوئی وکٹ حاصل نہ کرپائے جس کے سبب سری لنکن ٹیم 275 رنز کا مجموعہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ آخری 6 اوورز میں بننے والے 77 رنز مزید بڑھ سکتے تھے اگر وہاب ریاض اینجلو میتھیوز سمیت دو وکٹیں حاصل نہ کرتے مگر آٹھویں نمبر پر کھیلنے والے پراینجن کا 15 گیندوں پر 8 چوکوں کی مدد سے 39 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل جانا بھی بالرز کی نااہلی اور کپتان کی ناقص حکمت عملی ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔ اس میچ سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ پاکستان کی ون ڈے لائن اَپ میں سعید اجمل کی موجودگی کس قدر ضروری ہے۔

276رنز کے تعاقب میں پاکستان کے ابتدائی بلے بازوں محمد حفیظ، یونس خان، مصباح الحق اور عمر اکمل مجموعی طور پر 54 رنز ہی بنا سکے۔ اس سیریز کیلئے یونس خان کی ون ڈے ٹیم میں تقریباً ڈیڑھ برس بعد واپسی ہوئی ہے اور اس واپسی کے پیش نظر یہی امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ یونس خان کو فائنل الیون میں کھپانے کیلئے صہیب مقصود کی قربانی دینا پڑے گی کیونکہ دونوں اوپنرز اور دو سینئر بیٹسمینوں کیساتھ عمر اکمل اور ایشیا کپ کے ہیرو فواد عالم کو باہر نہیں کیا جاسکے گا۔ لیکن جس کھلاڑی کو باہر کرنے کی باتیں کی جارہی تھیں وہی کھلاڑی میچ کا ہیرو بن کر ابھرا ہے۔ اب یقینی طور پر صہیب مقصود اور فواد عالم کو فائنل الیون سے باہر نہیں کیا جاسکے گا اور اگر تیسرے ون ڈے میں سعید اجمل کی واپسی ہوگئی تو پھر ایک بیٹسمین کو ہی ٹیم سے ڈراپ کرنا ہوگا کیونکہ پہلے میچ میں بھی چھٹے بالر کی کمی شدت سے محسوس کی گئی ہے۔

سیریز کے پہلے ون ڈے میں بھی پاکستانی ٹیم ایک بالر کی کمی کیساتھ کھیلی تھی جس کا خمیازہ بھی پاکستانی ٹیم کو بھگتنا پڑا اس لیے اگلے میچ میں انور علی یا محمد طلحہ کی واپسی ممکن ہوسکتی ہے۔ اگلے میچ میں اگر پاکستانی ٹیم کو چھ بالرز پورے کرنے ہیں تو پھر ایک بیٹسمین کو باہر کرنا ہوگا۔ احمد شہزاد، صہیب مقصود اور فواد عالم کو اچھی اننگز کھیلنے کے باعث فائنل الیون سے ڈراپ نہیں کیا جاسکتا اس لیے اب اگلے میچ میں ٹیم کا توازن درست کرنے اور بالنگ کی کمزوری کو کم کرنے کیلئے یا مصباح الحق کو خود باہر بیٹھنا پڑے گا یا پھر محمد حفیظ کو باہر کردیا جائے جو اننگز کا آغاز کرنے کے ساتھ دس اوورز بھی کرواتا ہے۔ اگر مصباح یا حفیظ میں سے کسی کو ڈراپ نہیں کیا جاسکتا تو پھر سابق چیئرمین کی "سفارش" پرون ڈے میں واپس آنے والے یونس خان کو باہر بٹھانا ہوگا جو زبردستی ون ڈے ٹیم میں گھس گئے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ اگر یونس خان کو دوسرے ون ڈے سے ڈراپ کیا گیا تو سابق کپتان کے حمایتی آسمان سر پر اٹھا لیں گے لیکن کیا یہ پاکستان کرکٹ کے مستقبل کیساتھ زیادتی نہیں ہوگی کہ یونس خان کی "خواہش" کیلئے کسی نوجوان کا مستقبل داؤ پر لگا دیا جائے۔ فرض کریں کہ اگر اس میچ میں ساتویں نمبر پر بیٹنگ کیلئے آنے والا صہیب مقصود ناکامی سے دوچار ہوجاتا یا 20،25 رنز کی اننگز کھیل کر اہم موقع پر آؤٹ ہوجاتا تو کیا نوجوان بیٹسمین کوشکست کا الزام دے کر اگلے میچ سے باہر نہ کردیا جاتا؟

ماضی میں صرف سینئر کھلاڑیوں کی ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش کے نتیجے میں کئی جونیئر مگر باصلاحیت کھلاڑیوں کی قربانی دی جاچکی ہے اور اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہونے جارہا ہے جس کیلئے صہیب مقصود یا پھر فواد عالم پر نظریں لگی ہوئی ہیں۔ صہیب مقصود نے فتح گر اننگز کھیل کر سینئر بیٹسمین پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے اور اسے آئندہ میچز میں ہر صورت بڑی اننگز کھیل کر اپنے انتخاب کو درست ثابت کرنا ہوگا۔

Facebook Comments