پاکستان سپر لیگ ایک مرتبہ پھر مؤخر

خدشات کےعین مطابق پاکستان سپر لیگ ایک مرتبہ پھر موخر کردی گئی ہے اور یوں رواں سال دسمبر میں لیگ کے انعقاد کا خواب چکناچور ہوچکا ہے۔

PSL-logo

پاکستان کرکٹ بورڈ کے جاری کردہ ایک اعلامیہ کے مطابق چیئرمین پی سی بی نے پی ایس ایل میں بولی لگانے کے خواہشمند دو اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ چیئرمین نے ہائیر اور امن فاؤنڈیشن کے نمائندوں پر واضح کیا کہ رواں سال پی ایس ایل کے آغاز میں بورڈ کو مشکلات کا سامنا ہے اور خاص طور پر تیاری کے لیے وقت بہت کم رہ گیا تھا جس کی وجہ سے بولی لگانے کا عمل معطل کردیا گیا ہے۔

طے شدہ منصوبے کے تحت پی سی بی کو رواں ماہ کے اوائل میں بولی کے عمل کا آغاز کرنا تھا لیکن پہلے سے 10 دن کے لیے موخر کردیا گیا اور بالآخر آج غیر معینہ مدت کے لیے معطل کردیا گیا۔ یوں ڈیڑھ سال میں دوسری بار پاکستان سپر لیگ تعطل کا شکار ہوئی ہے اور جس طرح بورڈ میں انتظامی معاملات بحران کا شکار ہیں، ہوسکتا ہے کہ اگلے سال بھی لیگ منعقد نہ ہوپائے۔

پانچ فرنچائزز پر مشتمل مجوزہ پاکستان سپر لیگ کے کاروباری ماڈل کے مطابق بورڈ کو اس سے 100 ملین ڈالرز کی آمدنی ہوتی۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ لیگ میں مجموعی طور پر چھ اداروں نے دلچسپی ظاہر کی لیکن صرف دو ادارے – ہائیر اور امن فاؤنڈیشن – ہی نے بولی کے عمل میں حصہ لینے سے قبل تین ملین امریکی ڈالرز کی بینک ضمانت پیش کی۔ پی سی بی نے مجوزہ نیلامی کے لیے کھلاڑیوں کی بنیادی قیمت کا بھی اعلان کردیا تھا، البتہ کھیلنے پر رضامندی ظاہر کرنےوالے کھلاڑیوں کی فہرست جاری نہیں کی گئی تھی۔

چیئرمین شہریار خان نے کہا کہ بورڈ پی سی ایل کے انعقاد میں سنجیدہ ہے اور امید کرتا ہے کہ دونوں ادارے مستقبل میں بولی لگانے کے عمل میں ضرور حصہ لیں گے۔ جب تک یہ معاملات طے ہوں تب تک بورڈ لیگ کے انعقاد کے لیے فیوچر ٹورز پروگرام میں سے وقت نکالنے پر غور کرے گا۔

پاکستان سپر لیگ کا آغاز پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے ٹیڑھی کھیر ثابت ہو رہا ہے۔ خاص طور پر گزشتہ پانچ سالوں سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ منعقد نہ ہونے کی وجہ سے روایتی حلقوں کا شدت کے ساتھ مطالبہ ہے کہ لیگ کا انعقاد پاکستان میں کیا جائے تاکہ یہاں کے میدانوں کی رونقیں بحال ہو سکیں۔

Facebook Comments