کیا چیئرمین ’’ڈان‘‘ کو ’’بولڈ‘‘ کریں گے؟

ہر دور میں پاکستان کرکٹ میں کوئی نہ کوئی شخصیت ضرور حاوی رہی ہے۔ چیئرمین کا کردار تو خیر ہر دور میں اہم رہا ہے مگر یہاں کبھی کپتان اور بسا اوقات کوچ بھی حرف آخر بنے رہے ہیں جبکہ اکثر و بیشتر پلیئرز پاور نے بھی پاکستان کرکٹ کو ’’یرغمال‘‘ بنائے رکھا۔ اسی روایت کے مطابق اب موجودہ عہد میں بھی پاکستان کرکٹ محض ایک شخص کے ہاتھوں یرغمال ہے، جو اس وقت قومی کرکٹ کا ’’ڈان‘‘ ہے۔

یہ سوال سب سے اہم ہے کہ کیا سری لنکا میں شکست کا اصل سبب صرف مصباح کی خراب انفرادی کارکردگی تھی؟ (تصویر: AP)

یہ سوال سب سے اہم ہے کہ کیا سری لنکا میں شکست کا اصل سبب صرف مصباح کی خراب انفرادی کارکردگی تھی؟ (تصویر: AP)

فتح اور شکست کرکٹ کا حصہ ہے اور کوئی ٹیم ایسی نہیں جس نے غیر معمولی فتوحات کے ساتھ بدترین شکستوں کا کڑوا گھونٹ نہ پیا ہو مگر دنیا کی تمام بڑی ٹیمیں فتوحات کو ہضم کرنے کا ہنر بھی جانتی ہیں اور شکست کے بعد ہوم ورک کرکے وہ ان اسباب سے جان چھڑانے کی کوشش بھی کرتی ہیں لیکن پاکستان کرکٹ کا باوا آدم ہی نرالا ہے جہاں کبھی شکست کا اصل سبب ڈھونڈنے ،ذمہ داروں کی تلاش اور بہتری کے لیے حکمت عملی اپنانے کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ ہماری کرکٹ میں ہمیشہ طاقتور لوگ دوسروں کو دبا کر اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

سری لنکا کے دورے پر ناکامی کے ’’اصل ‘‘ اسباب کیا ہیں، وہ بہت سے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں مگر کپتان کو قربانی کا بکرا جا رہا ہے جس نے سارے الزامات اپنے سر لے لیے تاکہ ’’دوسروں‘‘ کے اُجلے دامن پر بدنامی کے چھینٹے نہ پڑیں۔جو لوگ ذاتی طور پر مصباح الحق کو جانتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ مصباح ملک کی عزت کے لیے اپنی قیادت گنوانا قبول کرلے گا مگر وہ کپتانی بچانے کے لیے ’’ڈرٹی گیم‘‘ نہیں کھیلے گا!

ورلڈ کپ سے قبل پاکستانی ٹیم نے اب صرف دو تین سیریز کھیلنی ہیں، جس کے بعد وہ میگا ایونٹ میں شرکت کرے گی جس کے لیے قوم نے امیدیں لگارکھی ہیں کہ 23برس بعد پاکستان ایک مرتبہ پھر آسٹریلوی سرزمین پر فاتح عالم کا اعزاز حاصل کرے گا۔کھلاڑیوں کی صلاحیت کو دیکھا جائے تو پاکستان کے نہ جیتنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، لیکن کم و بیش یہی کھلاڑی عالمی کپ کھیلیں گے جنہیں حالیہ دورۂ سری لنکا میں شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان کرکٹ، ملک کی طرح، ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے کیونکہ کھلاڑیوں نے جو کارکردگی سری لنکا میں دکھائی ہے، اس پرفارمنس کے ساتھ تو عالمی کپ کا پہلا مرحلہ بھی عبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے قومی ٹیم کے مینیجر نے ’’انقلابی‘‘ تبدیلیوں اور ’’جراتمندانہ‘‘ فیصلوں کا مطالبہ کیا ہے اور یہ مطالبہ بالکل درست اور بجا ہے کیونکہ ورلڈ کپ جیتنے کے لیے کے بورڈ چیئرمین کو حقیقتاً انقلابی اور ’’بولڈ‘‘ فیصلے کرنے ہوں گے۔

’’بولڈ‘‘ فیصلوں پر بعد میں بات کریں گے مگر سری لنکا میں ملنے والی شکستوں کا ذمہ دار مکمل طور پر مصباح کو ٹھہرا دیا گیا ہے جو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شکست کھانے والے کپتان محمد حفیظ کی طرح قربانی کا بکرا بنتے بنتے رہ گیا ہے۔یہ الگ بات کہ مصباح ابھی بچے بھی ہیں یا نہیں۔ میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ مصباح وہ گندا کھیل نہیں کھیلے گا جو بہت سے لوگ کھیل رہے ہیں۔ سری لنکا میں شکست کا اصل سبب کیا صرف مصباح کی ذاتی طور پر خراب کارکردگی تھی؟ مینیجر نے اعتراف کیا کہ کافی عرصے کے بعد پاکستانی ٹیم کو اس طرح کی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑامگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس ٹیم کا انتخاب کرنے والا کون تھا؟جس کمیٹی نے کوچنگ اسٹاف کی تقرری کی اس کا اہم ترین رکن کون تھا؟ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم پہلی مرتبہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہوئی تو اس ٹیم کا کوچ اور کرتا دھرتا کون تھا؟ سری لنکا میں ناکامیوں کی ایک وجہ میچ پریکٹس کی کمی کو قرار دیا گیا مگر اس دورے سے قبل پاکستانی ٹیم کو پریکٹس میچز کھلانے کی بجائے ایک ماہ طویل فٹنس کیمپ کا آئیڈیا کس نے دیا تھا ؟اور کون اس کا روح رواں تھا جس میں کھلاڑیوں کو تین ہفتے تک بیٹ اور گیند کو ہاتھ لگانے کا موقع نہیں دیا؟

ورلڈ کپ سے قبل ’’بولڈ‘‘ فیصلے کرنے کا مطالبہ دو سو فیصد درست ہے اور پی سی بی کے چیئرمین کو یہ جراتمندانہ فیصلے کرنا ہوں گے کہ پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچانے والا’’مسٹر ٹربل‘‘ کون ہے اور کس طرح ایسے ’’ڈان‘‘ سے جان چھڑائی جائے جو پاکستان کرکٹ کو تباہی کی طرف لے کر جارہا ہے۔چیئرمین پی سی بی یہ’’بولڈ‘‘ کب کریں گے اس سے قبل آپ میرے سوالوں کے جواب جاننے کی کوشش کریں جو زیادہ مشکل نہیں ہیں!!

Facebook Comments