غیر قانونی باؤلنگ ایکشن ، آئی سی سی کی جانب سے کارروائیوں کا دفاع

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کے خلاف اپنی حالیہ کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جانچ کا طریقہ کار بالکل درست ہے۔

نئے ضابطوں کے لاگو ہونے کے بعد سے اب تک جانچ کروانے والے تمام گیندبازوں پر پابندی لگی ہے، جن میں پاکستان کے سعید اجمل بھی شامل ہیں (تصویر: AFP)

نئے ضابطوں کے لاگو ہونے کے بعد سے اب تک جانچ کروانے والے تمام گیندبازوں پر پابندی لگی ہے، جن میں پاکستان کے سعید اجمل بھی شامل ہیں (تصویر: AFP)

20 سالوں تک غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کی جانچ کرنے والے دنیا کے واحد ادارے یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا نے اس ہفتے آئی سی سی کے حالیہ طریقہ کار پر اعتراض کیا تھا جس کی وجہ سے ایک روزہ درجہ بندی کے نمبر ایک گیندباز سعید اجمل سمیت کئی باؤلرز کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کے خلاف حال ہی میں تازہ کارروائی کا آغاز کی اور یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے بجائے کارڈف، برسبین اور چنئی میں واقع تین نئے مراکز میں باؤلنگ ایکشن کی جانچ کروائی۔ جس کے نتیجے میں جانچ کے مراحل سے گزرنے والے اب تک تمام پانچوں گیندباز پابندی کا نشانہ بنے ہیں۔

آئی سی سی نے جاری کردہ اعلامیہ میں ایس شبہات کا تردید کی کہ اس کارروائی میں کسی مخصوص خطے کے کھلاڑیوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے اور کہا کہ امپائروں کی توجہ صرف اور صرف کھلاڑی کے باؤلنگ ایکشن پر ہے۔

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کا طریقہ بالکل سیدھا ہے۔ امپائر مشتبہ غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کے حامل گیندباز کو آئی سی سی کو رپورٹ کرتے ہیں اور پھر وہ باؤلر آئی سی سی کے منظور شدہ کسی بھی مقام پر جانچ کے مراحل سے گزرتا ہے۔ یہاں آئی سی سی نے دو تبدیلیاں کی ہیں ایک تو جانچ کے مراکز تبدیل کردیے ہیں اور دوسرا باؤلنگ ایکشن کی قانونی حیثیت جانچنے کے لیے ضابطوں کو بدلا گیا ہے۔ آئی سی سی نے مارچ 2014ء میں یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کی جانب سے اپنی خدمات سے دستبردار ہونے کے بعد نئے مقامات کو چنا ہے اور اب تک برسبین، کارڈف اور چنئی میں تین مراکز کو جانچ کا اختیار دیا گیا ہے۔

آئی سی سی نے یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے طریقوں کو نقل کرنے یا اس کی ملکیت دانش کا غلط استعمال کرنے کے الزامات کو بھی مسترد کیا جس کے بارے میں یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے نئے ضابطے بناتے ہوئے ہماری ملکیت دانش کی خلاف ورزی کی۔

جولائی میں نئے ضابطوں کے لاگو ہونے کے بعد سے اب تک جانچ کے مراحل سے گزرنے والے تمام پانچ باؤلرز پر پابندی عائد ہوئی ہے جن میں پاکستان کے سعید اجمل بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں ان کے ہم وطن محمد حفیظ اور ویسٹ انڈیز کے سنیل نرائن بھی شکوک کی زد میں آئے۔

Article Tags

Facebook Comments