عالمی کپ، سٹے بازوں کو روکنے کے بھرپور انتظامات

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن نے کہا ہے کہ عالمی کپ 2015ء کو سٹے بازی سے بچانے کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے پورے انتظامات کیے گئے ہیں اور آئی سی سی اس کھیل کو کسی بھی طرح کی بدعنوانی سے بچانے کے لیے پوری طاقت لگائے گی۔

کسی بھی سٹے باز کے لیے کھلاڑیوں یا منتظمین تک رسائی ناممکن بنا دی ہے، آئی سی سی کا دعویٰ (تصویر: ICC)

کسی بھی سٹے باز کے لیے کھلاڑیوں یا منتظمین تک رسائی ناممکن بنا دی ہے، آئی سی سی کا دعویٰ (تصویر: ICC)

کرائسٹ چرچ میں ذرائعِ ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے رچرڈسن نے کہا کہ "مجھے لگتا ہے کہ انسداد بدعنوانی یونٹ نے اس بار سٹے بازی سے لڑنے کے لیے پوری تیاری کر لی ہے اور پچھلے ٹورنامنٹ کے مقابلے میں اس بار پوری طرح مستعد ہے۔ ہمیں اندازہ ہے کہ کچھ لوگ اس کھیل کو خراب کرنے کے لیے کھلاڑیوں، امپائروں اور منتظمین پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ میچ کو اُن کے حساب سے کھیلا جا سکے۔"

پچھلے چند سالوں کے دوران کرکٹ میں میچ فکسنگ اور سٹے بازی کی کئی شکایتیں سامنے آئی ہیں۔ رچرڈسن نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اس کھیل کو اپنے غیر اخلاقی کاموں سے بدنام کرنے کی کوشش کی ہے جس کو دیکھتے ہوئے اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی یونٹ بنایا گیا ہے جو مقامی حکام کے ساتھ مل کر کرکٹ کو بدعنوانی سے پاک بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

ڈیو رچرڈسن نے مزید کہا کہ کرکٹ میں بدعنوانی پر نظر رکھنے والا یونٹ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر گزشتہ تین سالوں سے لگاتار کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم اور انتظامیہ کے لیے کیے گئے حفاظتی انتظامات کے بعد یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ میچ فکسرز کا کھلاڑیوں یا انتظامیہ تک پہنچنا بھی ممکن نہ رہے۔

ماضی میں جنوبی افریقہ کے وکٹ کیپر رہنے والے رچرڈسن نے کہا کہ "ہم نے حفاظتی انتظامات پر دھیان دیا اور اُسے اتنا سخت کر دیا ہے کہ کسی بھی میچ فکسر کے لیے ٹیم کے کھلاڑیوں یا انتظامیہ تک پہنچنا بہت مشکل ہو گا۔ تقریباً پچھلے ایک سال سے کھلاڑیوں کے رویے اور برتاؤ پر بھی اینٹی کرپشن یونٹ نظر رکھ رہا ہے تاکہ کسی مشکوک تبدیلی پر فوراً دھیان دیا جا سکے۔"کھلاڑیوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس 'بیماری' کو اکھاڑ پھینکنے لیے کھلاڑیوں نے بھی اینٹی کرپشن یونٹ کا پورا ساتھ دیا ہے ۔"

یاد رہے کہ چار سال قبل پاکستان اور انگلستان کی ٹیسٹ سیریز کے دوران پاکستان کے کپتان سلمان بٹ سمیت تین کھلاڑیوں کو اسپاٹ فکسنگ میں دھر لیا گیا تھا جس پر انہیں کم از کم پانچ، پانچ سال کی پابندی سزا بھگتنا پڑی۔

Article Tags

Facebook Comments