حد درجہ خوداعتمادی سے بچیں، جنوبی افریقی فیلڈنگ سے ہوشیار رہیں: سچن کا مشورہ

عالمی کپ کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بھارت پاکستان سے شکست کھایا ہو، بالکل اسی طرح وہ کبھی جنوبی افریقہ سے جیت بھی نہیں سکا۔ یہی وجہ ہے کہ عظیم بلے باز سچن تنڈولکر نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کے خلاف جیت کے بعد حد سے زیادہ خود اعتمادی سے بچنا چاہیے اور اس کے لیے جنوبی افریقہ کی عمدہ میدان بازی (فیلڈنگ) کی جانب اشارہ کیا ہے، جو شاید بھارت کے بلے بازوں کو اتنے مواقع نہ دے، جتنے کہ پاکستان نے دیے تھے۔

جنوبی افریقہ کے کھلاڑی اتنی آسانی سے رن نہیں دوڑنے دیں گے (تصویر: AP)

جنوبی افریقہ کے کھلاڑی اتنی آسانی سے رن نہیں دوڑنے دیں گے (تصویر: AP)

گزشتہ مقابلے کے مرد میدان اور سنچری ساز ویراٹ کوہلی کو پاکستان کے کھلاڑیوں نے دو زندگیاں عطا کیں اور تنڈولکر سمجھتے ہیں کہ جنوبی افریقہ کے خلاف مقابلے میں ایک رن دوڑنا بھی اتنا آسان نہیں ہوگا۔ "جنوبی افریقہ کے کھلاڑی کہیں زیادہ تیز ہیں، ان کی تھروز طاقتور اور آؤٹ فیلڈ میں پھرتی پاکستان سے کہیں اچھی ہے۔ اس لیے بھارت کو پہلی وکٹ پر اچھی شراکت داری کی ضرورت ہوگی اور انہیں تیز رن لینے کے دوران انتہائی محتاط رہنا ہوگا۔

دفاعی چیمپئن بھارت اور فیورٹ جنوبی افریقہ کا مقابلہ اتوار 22 فروری کو ملبورن میں ہوگا۔

سچن کہتے ہیں کہ "اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیل اسٹین جنوبی افریقہ کے وکٹیں لینے والے گیندباز ہیں۔ انہیں نے کئی مواقع پر ناقابل یقین باؤلنگ کی ہے۔ اس لیے بھارت کے کھلاڑیوں کو ڈیل اسٹین کو سنبھل کر کھیلنا ہوگا۔"

تنڈولکر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے خلاف مقابلے میں ناکام ہونے والے روہیت شرما آئندہ مقابلوں میں اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔ ایڈیلیڈ میں روہیت صرف 15 رنز بنا پائے تھے لیکن سچن کا کہنا ہے کہ "روہیت پر دباؤ نہ ڈالا جائے، ہمیں اس کی فکر کی ضرورت نہیں ہے، اگلے مقابلوں میں وہ اچھا کھیلے گا۔"

علاوہ ازیں، سچن کپتان مہندر سنگھ دھونی کی خراب بیٹنگ فارم پر بھی فکرمند نہیں دکھائی دیتے اور کہتے ہیں کہ "مجھے دھونی کی فارم کی فکر نہیں۔ ڈریسنگ روم میں کھلاڑیوں نے سوچا ہوگاکہ ہم 320 سے زیادہ رنز بنائے گے لیکن 300 رنز بھی مقابلے کے لیے اچھا اسکور تھا۔ اگر پاکستان بہتر کھیلتا تو معاملہ قریبی ہو سکتا تھا کیونکہ آجکل 275 سے 300 رنز عام طور پر بن رہے ہیں۔"

بھارت کو دنیا کی بہترین ٹیموں کے ہم پلّہ قرار دیتے ہوئے ایک روزہ کرکٹ کے کامیاب ترین بلے باز نے کہا کہ "ہم آسٹریلیا اورجنوبی افریقہ کی برابری کر سکتے ہیں، اور پاکستان کے خلاف جس طرح کھیلے، اس سے بہتر کھیل بھی پیش کرسکتے ہیں۔ ہماری بلے بازی مزید بہتر بھی ہوسکتی ہے اور گیندبازوں کو اسی طرح کی کارکردگی جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔"

جنوبی افریقہ کے خلاف اہم مقابلہ ممکنہ طور پر گروپ 'بی' میں سرفہرست مقام حاصل کرنے والی ٹیم کا بھی تعین کرے گا جو کوارٹر فائنل میں گروپ 'اے' میں چوتھے نمبر پر آنے والی ٹیم کا مقابلہ کرے گی۔

Article Tags

Facebook Comments