محمد عامر کی واپسی کا وقت قریب آگیا

ٹھیک 5 سال قبل یعنی اگست 2010ء کو برطانوی اخبار ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ نے اسپاٹ فکسنگ کے راز پر سے پردہ اٹھایا اور پاکستان کے تین اہم ترین کھلاڑی کپتان سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر دھر لیے گئے۔ ایسا لگتا تھا کہ اب قومی ٹیم اس زوال سے کبھی نہیں نکل پائے گی لیکن نہ صرف پاکستان اس بحران سے نکلا بلکہ تمام تر مسائل کے باوجود صف اول کی ٹیموں میں شمار ہوتا ہے۔ بہرحال، اس دوران بین الاقوامی کرکٹ کونسل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے ان تینوں کرداروں پر کم از کم پانچ، پانچ سال کی پابندی عائد کی۔ گمان تو یہی تھا کہ اب ان کھلاڑیوں کا کیریئر اختتام کو پہنچا ماسوا محمد عامر کے۔نوعمر عامر کے علاوہ دونں کھلاڑی اب کہاں ہیں اور کیا کررہے ہیں، نہ کسی کو علم ہے اور نہ ہی دلچسپی لیکن محمد عامر پر سب کی نظریں ہیں جو اس وقت بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے لیے سخت محنت کررہے ہیں۔ شائقین کی، بورڈ کے کرتا دھرتاؤں کی اور دنیا بھر کے بلے بازوں کی نظریں بھی انہی پر ہیں اور اگلے ماہ ہونے والا قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ بھی ان کے مستقبل کا فوری فیصلہ کردے گا۔

آئی سی سی کے ترمیم شدہ قوانین کے بعد محمد عامر کو پابندی کا دور مکمل کرنے سے پہلے ہی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی تھی۔ اب وہ یکم ستمبر سے راولپنڈی میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں راولپنڈی ریمز کی نمائندگی کریں گے۔ یہاں قومی سلیکٹرز عامر پر نظریں جمائے ہوئے ہوں گے، وہ نہ صرف ان کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیں گے بلکہ فٹنس کے معاملات بھی دیکھیں گے تاکہ ان کے ایک مرتبہ پھر انتخاب پر غور کیا جا سکے۔ اگر عامر نے قابل ذکر کارکردگی دکھائی تو زمبابوے کے خلاف سیریز میں آزمائشی طور پر اور اس کے بعد انگلستان کے خلاف انہیں ایک مرتبہ پھر ملک کی نمائندگی کا موقع مل سکتا ہے۔

محمد عامر 2009ء میں بین الاقوامی منظرنامے پر جلوہ گر ہوئے تھے اور آتے ہی انہوں نے تہلکہ مچا دیا تھا۔ بدقسمتی سے جس مقابلے میں انہوں نے اپنی سب سے بہترین کارکردگی پیش کی وہی ان کا آخری میچ ثابت ہوا۔ اگست 2010ء کے اواخر میں لارڈز کے مقام پر انگلستان کے خلاف انہوں نے چھ وکٹیں بھی حاصل کیں لیکن ’’پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی ‘‘۔ رواں سال مئی میں ہمیں محمد عامر قومی سپر 8 ٹی ٹوئنٹی کپ میں کھیلتے نظر آئے تھے جہاں انہوں نے قابل ذکر کارکردگی پیش کی لیکن اب اگلا ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی ان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ ایک طرف ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ ایک فٹ اور اِن فارم محمد عامر کی شمولیت پاکستان کے تیز باؤلنگ کے شعبے کو مضبوط کرے گی تو دوسری جانب بورڈ پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ کھلاڑیوں کی مزید تربیت کو یقینی بنائے تاکہ مستقبل میں پھر قوم کو ایسی خفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Facebook Comments