بھارت کے بجائے سپر لیگ پر توجہ دی جائے: رمیز راجا

اکستان کے سابق کپتان اور دورِ حاضر کے مشہور تبصرہ گو رمیز راجا نے کہا ہے کہ اس سال دسمبر میں پاک-بھارت سیریز ممکن نہیں ہے ، اس لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی لیگ کے بروقت انعقاد پر توجہ دینی چاہیے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے مطابق دونوں ممالک نے رواں سال دسمبر میں ایک مکمل سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلنی ہے۔ لیکن حالیہ سیاسی و سرحدی کشیدگی اور بھارتی کرکٹ بورڈ کی سرد مہری کی وجہ سے یہ مقابلے ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ اس سلسلے میں پی سی بی کے سربراہ شہریار خان نے بھارت کا دورہ بھی کیا لیکن اپنے ہم منصب اور دیگر عہدیداران کی جانب سے انہیں کوئی حوصلہ اور امید افزاء جواب نہيں ملا اور وہ بغیر کوئی مثبت پیشرفت لیے وطن واپس آ گئے۔

رمیز راجا کا کہنا ہے کہ "دونوں ممالک کے موجودہ مخدوش سیاسی حالات کے باعث مجھے نہیں لگتا کہ بھارت کے خلاف دسمبر میں سیریز ممکن ہے۔ روایتی حریفوں کے مابین کرکٹ کے آغاز پر خوشی ہوگی لیکن اس وقت دونوں ممالک کے سرد تعلقات اور پیچیدہ حالات کی وجہ سے ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ اس صورتِ حال میں کرکٹ بورڈ کی اولین ترجیح قومی کرکٹ کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے فروری میں پاکستان سپر لیگ کے انعقاد پر ہونی چاہیے۔"

پاکستان نے حال ہی میں رمیز راجا، اور سابق کپتان وسیم اکرم، کو مجوزہ پی ایس ایل کا سفیر مقرر کیا ہے۔ اگلے سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے شدہ اس لیگ میں پانچ ٹیمیں حصہ لیں گی جو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ پاکستان کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں کی نمائندہ ہوں گی۔ بورڈ نے اس سلسلے میں غیر ملکی کھلاڑیوں سے بھی رابطے کیے ہیں اور ان میں سے بیشتر کی جانب سے مثبت جوابات بھی پائے ہیں۔ اگر پاکستان ایک کامیاب لیگ کے انعقاد میں ممکن ہوجاتا ہے تو گزشتہ 8 سالوں سے بھارت کے خلاف کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے ملنے والے مالی خسارے کو پورا کرسکتا ہے۔

Facebook Comments