بھارتی کپتان دھونی کی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان اُٹھ گئے

بھارت کے سابق تیز گیند باز اجیت اگرکار نے بھارتی کپتان مہندرا سنگھ دھونی کی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان اُٹھاتے ہوئے سلیکٹرز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف دھونی کی کارکردگی کو بطور ایک کھلاڑی جانچنے کی کوشش کریں بلکہ یہ بھی دکھیں کہ بطور کپتان وہ بھارتی ٹیم کے لیے کس قدر سود مند رہ گئے ہیں۔

اپنے حالیہ بیان میں اگرکار نے کہا کہ اِس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ دھونی نے بھارتی ٹیم کے مقام کو بہت بلندی تک پہنچایا ہے، مگر ہم کسی بھی کھلاڑی کو صرف اِس لیے ٹیم میں نہیں رکھ سکتے کہ ماضی میں اُس کی کارکردگی شاندار رہی تھی۔

اگرکار کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے دھونی نہ صرف بطور بلے بازی بھجے بھجے نظر آئے بلکہ بطور کپتان بھی اُن کے فیصلے اب کارآمد نظر نہیں آرہے اور اِس کی حالیہ مثال بنگلہ دیش کے خلاف ایک روزہ سیریز اور جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سلیکٹرز کو کوہلی اور دھونی کی حالیہ کارکردگی کو جانچنا ہوگا کہ دونوں کھلاڑیوں کی بطور کپتان کارکردگی کیا رہی ہے اور ٹیم کو کیا فائدہ اور کیا نقصان ہوا ہے۔

اگرکار نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جنوبی افرقہ کے خلاف سیریز سے قبل کرکٹ بورڈ کو بہت سے اہم فیصلے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اپنی سرزمین پر ہمیں ایک اور سیریز میں شکست کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سابق فاسٹ گیند باز کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ دھونی کو ایک روزہ کرکٹ میں نمبر چار پر بلے بازی کرنے آنا چائیے کیونکہ اِس جگہ اجنکیا رہانے بہتر طور پر کھیل سکتے ہیں جو گزشتہ کئی ماہ سے بھارت کے لیے کافی اچھا کھیل رہے ہیں۔

دھونی کے حوالے سے اُن کا مزید کہنا تھا کہ اب دھونی میں وہ صلاحیت بھی نظر نہیں آرہی جو پہلے نظر آتی تھی یعنی وکٹ پر آتے ہی مخالف ٹیم کو دباو میں لایا کرتے تھے۔ اگرکار کا کہنا تھا کہ اِس بات سے کوئی انکار نہیں کہ دھونی نے بھارت کے لیے شاندار خدمات پیش کی ہیں مگر میں نہیں سمجھتا کہ دھونی کو ٹیم پر بوجھ بننے دینا چاہیے، اگر وہ کارکردگی پیش کریں تو ضرور اُن کو کھیلایا جائے لیکن اگر وہ متاثر کن کارکردگی پیش کرنے میں مزید ناکام رہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اُن کی جگہ کسی نئے لڑکے کو موقع دیا جائے۔

واضح رہے کہ دھونی بھارتی تاریخ میں وہ واحد کپتان ہیں جن کی قیادت میں بھارت نے ایک روزہ ورلڈ کپ بھی جیتا، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھی اپنے نام کیا جبکہ چیمپئنز ٹرافی کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔

Facebook Comments