ٹھنڈے مزاج ہاشم آملہ کا میدان میں غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا

اگرچہ بھارت کے خلاف ایک روزہ سیریز میں ہاشم آملہ کا بلا رنز کے انبار نہیں لگارہا جو صرف اُن کے لیے نہیں بلکہ ٹیم کے لیے بھی پریشانی کا سبب ہے، مگر اِسی پریشانی کے دوران آملہ کے لیے خوشی اور راحت کا پہلو اُس وقت نکلا جب اُنہوں نے ایک روزہ کرکٹ میں سب سے جلدی 6000 رنز بنانے کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔

جب دونوں ٹیموں کے درمیان پانچوے میچ کا آغاز ہوا تو آملہ کو ریکارڈ قائم کرنے کے لیے صرف 15 رنز درکار تھے جو اُنہوں نے حاصل کرلیے۔ اِس سے پہلے یہ ریکار ڈ بھارتی نائب کپتان ویرات کوہلی کے پاس تھا جو اُنہوں نے 136ویں اننگ میں حاصل کیا تھا جبکہ آملہ یہ ریکارڈ 123ویں اننگ میں حاصل کیا۔

کوہلی نے جب نومبر سری لنکا کے خلاف یہ ریکارڈ اپنے نام کیا تو اُس سے پہلے یہ طویل عرصے تک ویسٹ انڈیز کے لیجنڈری بلے باز ویوین رچرڈز کے پاس تھا جو اُنہوں نے 1989 میں پاکستان کے خلاف برسبین میں قائم کیا تھا۔

آملہ کے پاس صرف تیز ترین 6000 رنز کا ریکارڈ نہیں بلکہ ایک روزہ کرکٹ میں اِس دلیر بلے باز نے 2000 رنز بھی سب سے پہلے بنائے، پھر 3000 رنز بھی سب سے پہلے بنائے اور یہ سلسلہ 4000 اور 5000 رنز تک بھی جاری رہا۔

بات یہاں رکتی نہیں بلکہ اگر آملہ چاہتے ہیں کہ وہ سب سے جلدی 7000 رنز بنانے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کرلیں تو اُن کے پاس 43 اننگز موجود ہیں۔ یعنی ایک اننگ میں محض 23 رنز بنانے ہونگے اور آملہ جیسے بلے باز کے لیے یقینی طور پر یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اِس وقت یہ ریکارڈ جنوبی افریقی کپتان اور آملہ کے دوست اے بی ڈی ویلئیرز کے پاس ہے۔

Article Tags

Facebook Comments