کیا کرکٹ سے ٹاس کا بھی خاتمہ ہوجائے گا؟

ہر گزرتے دن کے ساتھ کرکٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے قواعد و ضوابط میں تبدیلیاں لائی جارہی ہیں۔ کچھ علانیہ قوانین ہیں تو کچھ غیر علانیہ اصول جیسا کہ ٹی ٹوئنٹی کو علانیہ متعارف کروایا گیا، لیکن مقبولیت کی وجہ سے اسے ٹیسٹ پر بھی فوقیت دی جا رہی ہے۔ پھر ایک روزہ میں شائقین کو محظوظ کرنے کے لیے ایسی وکٹوں کی تیاری گویا مسلمہ اصول بن گئی ہے جہاں بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملے۔ گیندبازوں کے ہاتھ باندھنے کے لیے دونوں اینڈز سے نئی گیند کا استعمال اور ایسے درجنوں قوانین لائے گئے جس سے کرکٹ تیز سے تیز ہوتی چلی گئی۔ اب تو ٹیسٹ بھی دن و رات دونوں اوقات میں کھیلے جا رہے ہیں اور ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا و نیوزی لینڈ کی سیریز کا تیسرا ٹیسٹ طویل طرز کی کرکٹ میں ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔ عین اسی وقت انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کاؤنٹی چیمپئن شپ ڈویژن II میں ایک نیا تجربہ کرنے جا رہا ہے۔ بورڈ اگلے سیزن میں ٹاس کے خاتمے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

اس منصوبے کے تحت مقابلے کے آغاز سے قبل ٹاس نہیں کیا جائے بلکہ مہمان ٹیم کو یہ سہولت دی جائے گی کہ وہ پہلے بلے بازی یا گیندبازی کا فیصلہ کرے۔ اگر وکٹ دیکھ کو وہ درست اندازہ نہ لگا سکے تو اس کے مطالبے پر ٹاس بھی ہو سکتا ہے۔ فی الحال تو اس منصوبے کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ میزبان بہتر وکٹیں بنائیں۔

ایک ایسے وقت میں جب ناگ پور میں جاری بھارت-جنوبی افریقہ ٹیسٹ میں دوسرے روز 467 رنز پر ہی 3 اننگز ختم ہو چکی ہیں، یہ فیصلہ بہت بروقت نظر آتا ہے۔

ای سی بی کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آج یعنی جمعرات کو ہو رہا ہے جس میں غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا ٹاس کے آپشن کو برقرار رکھا جائے یا پہلے مرحلے میں آزمائشی طور پر اسے کچھ عرصے کے لیے معطل کردیا جائے۔ اگر ای سی بی نے اس تجربے کے حق میں فیصلہ دیا تو 2016ء میں ایک سال کے لیے ان سفارشات پر عمل کیا جائے گا۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کا خیال ہے کہ ڈویژن II میں زیادہ تر میچ کے فیصلے کا انحصار ہی ٹاس پر ہوتا ہے۔ جو ٹاس جیتتا ہے زیادہ تر فتوحات اس کو ہی ملتی ہیں۔ یہ سب اس لیے کہ وکٹ کی تیاری اپنے مفادات کے تحت کی جاتی ہے جو صرف گیندبازوں کے لیے سازگار ہوتی ہے۔ اگرچہ وکٹوں کا معیار مسلسل گر رہا ہے لیکن 2011ء سے اب تک کسی ٹیم کو بطور سزا کم پوائنٹس نہیں دیے گئے، جبکہ ماضی میں متعدد بار ایسا دیکھنے کو ملا تھا۔

مصدقہ معلومات کے مطابق ٹاس کی روایت کا آغاز 1744ء میں ہوا تھا اور ٹاس کے ذریعے یہ فیصلہ کیا جاتا تھا کہ پہلے بلے بازی کون کرے گا یا گیندبازی کون سنبھالے گا۔

Article Tags

Facebook Comments