گلابی گیند نے دوسرے دن بھی اپنی دہشت برقرار رکھی

ایڈیلیڈ کے میدان میں مصنوعی روشنی میں کھیلے جانے والے تاریخ کے پہلے ٹیسٹ کے پہلے دن کی طرح دوسرے دن بھی گلابی گیند نے اپنی دہشت کو برقرار رکھا اور 13 کھلاڑیوں کو پویلین کی جانب روانہ کیا، جب دن کا اختتام ہوا تو نیوزی لیند نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 116 رنز بنالیے تھے جبکہ آسٹریلیا کے خلاف اُس کی برتری 94 رنز تک پہنچ گئی۔

جب دوسرے دن کا آغاز ہوا تو آسٹریلیا کے دو وکٹوں پر 54 رنز تھے۔ وکٹ پر کپتان اسٹیو اسمتھ اور ایڈم ووگز موجود تھے۔ اِس سے پہلے کہ دونوں کھلاڑی وکٹ پر سیٹ ہوتے نیوزی لینڈ کے گیند بازوں کی جانب سے زبردست حملہ ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے 64 رنز پر 6 کھلاڑیوں کو آوٹ کردیا۔

اِن مشکل حالات میں وکٹ کیپر پیٹر نیویل اور نیتھن لیون نے ذمہ دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور نویں وکٹ کے لیے 74 رنز کی اہم ترین شراکت دار قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔

جب ٹیم کا اسکور 190 تک پہنچا تو ٹرینٹ بولٹ نے لیون کو 34 رنز پر آوٹ کرکے نیوزی لینڈ کو سکھ کا سانس میسر کیا۔ لیکن ابھی کچھ سکون اور راحت ہی حاصل ہوئی تھی کہ آخری نمبر پر بلے بازی کے لیے آںے والے مچل اسٹارک نے بھی لاٹھی چارج شروع کردیا اور محض 15 گیندوں پر دو چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 24 رنز بنالیے لیکن اِس سے پہلے کہ وہ مزید حملے کرتے اننگ میں سب سے زیادہ 66 رنز بنانے والے نیویل کو بریس ویل نے آوٹ کرکے اننگ 224 رنز تک محدود کردی اور 22 رنز کی برتری حاصل کرلی۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے بریس ویل نے تین، کریگ اور بولٹ نے دو، دو جبکہ ساوتھی اور سینٹنر نے ایک ایک کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگادیا۔

چونکہ انجری کے سبب مچل اسٹارک ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں گیند بازی سے محروم رہ گئے ہیں تو خیال تھا کہ نیوزی لینڈ کے بلے باز دوسری اننگ میں بہتر طریقے سے بلے بازی کریں گے اور میزبان کو بڑا ہدف دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ مگر اسٹارک کی کمی پوری کی جوش ہیزلووڈ نے جنہوں نے بہترین لائن کے ساتھ گیند بازی کرتے ہوئے تین کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگایا جبکہ اُن کا ساتھ دیا مچل مارش نے اور یوں محض 116 رنز پر آدھی ٹیم پویلین لوٹ گئی ہے۔

جب دن کا اختتام ہوا تو مچل سینٹنر 13 اور بی جے واٹلنگ 7 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔

اگر وکٹ اور گلابی گیند کے تیور یہی رہے تو گمان یہی ہے کہ ایڈیلیڈ ٹیسٹ تیسرے دن ہی ختم ہوجائے گا اور مصنوعی روشنی میں کھیلے جانے والے اہم ترین لمحات تماشائی مزید نہیں دیکھ سکیں گے۔

 

 

Facebook Comments