توقعات پوری ہوگئیں، محمد عامر دورۂ نیوزی لینڈ کے لیے منتخب

بالآخر وہ دن آ گیا، جس کا پاکستان کے شائقین کو بہت طویل عرصے سے انتظار تھا۔ آپ چاہے اختلاف کریں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ محمد عامر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی سے لے کر بین الاقوامی لیگ کرکٹ تک، انہوں نے ہر جگہ خود کو ثابت کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے دورۂ نیوزی لینڈ کے لیے ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی دونوں دستوں میں انہیں شامل کرلیا ہے۔ البتہ ان کا کھیلنا اب بھی سو فیصد یقینی نہیں ہے کیونکہ نیوزی لینڈ کے ویزے کا معاملہ ابھی بھی لٹکا ہوا ہے۔ کیونکہ عامر کو اسپاٹ فکسنگ معاملے میں برطانیہ کی عدالت نے چھ ماہ قید کی سزا بھی دی تھی، اس لیے ایک سزا یافتہ مجرم ہونے کی وجہ سے انہیں ویزے کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے اور ابھی تک یہ معاملہ حل نہیں ہوا۔ اگر انہیں ویزا نہ مل سکا تو بہرحال وہ یہ سیریز نہیں کھیل سکیں گے۔ لیکن یہ اسپاٹ فکسنگ پر پانچ سال کی طویل پابندی بھگتنے کے بعد پہلا موقع ضرور ہے کہ محمد عامر کسی بین الاقوامی مقابلے کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔

2010ء میں انگلستان کے خلاف لارڈز ٹیسٹ محمد عامر کا آخری بین الاقوامی مقابلہ تھا کہ جس میں وہ جان بوجھ کر نو بال کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ان پر پانچ سال پابندی لگا دی تھی۔ ستمبر 2015ء میں پابندی ختم ہونے کے بعد وہ ہر سطح پر کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔

پاکستان نیوزی لینڈ میں تین ون ڈے اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلے گا جس کا آغاز 15 جنوری سے ہوگا۔ یہ سیریز پاکستان کے لیے بہت سخت ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ نیوزی لینڈ پچھلے پورے سال میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر صرف ایک میچ ہارا ہے، وہ بھی سال 2015ء کے آخری دنوں میں۔ جس طرح کی کارکردگی وہ پورے سال پیش کرتا رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ سیریز بہت مشکل ثابت ہوگی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسی موقع پر محمد عامر کے معاملے پر ٹیم میں شدید اختلافات بھی موجود ہیں۔

پہلے محمد حفیظ نے کہا کہ وہ عامر کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہے کیونکہ وہ ملک کو بدنام کرنے والے کسی کھلاڑی کے ساتھ کھیلنا پسند نہیں کرتے۔ پھر اظہر علی بھی ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے، یہاں تک کہ انہوں نے ایک روزہ ٹیم کی قیادت سے استعفیٰ تک دے دیا اور کہا کہ وہ ایسی ٹیم کی قیادت نہیں کر سکتے جس میں عامر کھیلیں۔ گو کہ بورڈ نے اظہر کا استعفیٰ منظور نہیں کیا اور معافی تلافی کے بعد بظاہر معاملے کو ٹھنڈا کردیا لیکن لگتا نہیں ہے کہ یہ "آگ" اتنی جلدی بجھے گی۔ پھر اعلان کردہ ٹی ٹوئنٹی دستے میں محمد عامر کی جگہ محمد عرفان کے اخراج سے بنائی گئی ہے، جو پاکستان کی ترجیحات کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ کبھی سلیکشن کمیٹی نے کسی ایسے کھلاڑی کے حق میں بات کی ہو جو سالوں سے ٹیم کا حصہ ہی نہ ہو؟ چیف سلیکٹر ہارون رشید کہتے ہیں کہ عامر اب بھی ٹیم میں موجود بیشتر گیندبازوں سے زیادہ باصلاحیت ہیں۔ اس بیان پر تو انہیں جتنی "شاباشی" دی جائے کم ہے کیونکہ یہ ان تمام باؤلرز کے منہ پر تماچہ ہے جنہوں نے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد مشکل ترین حالات میں پوری ایمانداری کے ساتھ پاکستان کرکٹ کو سنبھالا اور اسے بدترین دور سے کھینچ نکالا۔

بہرحال، سیریز کے لیے جن کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے ان میں نمایاں عمر گل ہیں، جو گزشتہ سال دورۂ بنگلہ دیش کے بعد پہلی بار قومی دستے میں آئے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے ٹیم میں مستقل جگہ نہیں بنا پا رہے اور پچھلے ایک سال میں محض ایک ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی کھیلا ہے۔ اب بھی انہیں صرف ٹی ٹوئنٹی کا حصہ بنایا گیا ہے البتہ محمد عرفان، جنید خان اور سہیل تنویر کی عدم موجودگی میں ان کے کھیلنے کے امکانات روشن ہیں۔

ایک روزہ دستے میں حیران کن شمولیت اسد شفیق کی صورت میں ہوئی ہے۔ انہیں گزشتہ سال صرف زمبابوے کے خلاف دو سیریز میں آزمایا گیا، جن میں وہ کوئی نمایاں کارکردگی بھی پیش نہ کرسکے تھے۔ بہرحال، پاک-نیوزی لینڈ سیریز کا آغاز 15 جنوری کو آکلینڈ میں پہلے ٹی ٹوئنٹی سے ہوگا جو 31 جنوری کو یہیں پر تیسرے و آخری ایک روزہ کے ساتھ مکمل ہوگی۔

ایک روزہ دستہ:

اظہر علی (کپتان)، احمد شہزاد، اسد شفیق، انور علی، بابر اعظم، راحت علی، سرفراز احمد، شعیب ملک، صہیب مقصود، ظفر گوہر، عماد وسیم، محمد حفیظ، محمد رضوان، محمد عامر، محمد عرفان اور وہاب ریاض۔

ٹی ٹوئنٹی دستہ:

شاہد آفریدی (کپتان)، احمد شہزاد، افتخار احمد، انور علی، سرفراز احمد، سعد نسیم، شعیب ملک، صہیب مقصود، عامر یامین، عماد وسیم، عمر اکمل، عمر گل، محمد حفیظ، محمد رضوان، محمد عامر اور وہاب ریاض۔

Facebook Comments