ہاشم آملا نے قیادت سے استعفیٰ دے دیا

بالآخر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، جنوبی افریقہ کے کپتان ہاشم آملا نے قیادت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کیپ ٹاؤن میں انگلستان کے خلاف دوسرا ٹیسٹ ان کے قائدانہ عہد کے خاتمے کے ساتھ مکمل ہوا ہے جس میں انہوں نے ڈبل سنچری بنا کر اپنی فارم تو واپس لے لی لیکن اسی موقع کو قیادت کا بوجھ اتارنے کا بہتر موقع سمجھا۔ ہاشم آملا کو 2014ء کے وسط میں گریم اسمتھ کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنوبی افریقہ کا ٹیسٹ کپتان مقرر کیا گیا تھا۔ اس سال تو ہاشم نے خوب کامیابیاں سمیٹیں اور لنکا ڈھانے کے بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز بھی جیتی لیکن 2015ء ان کے لیے مایوس کن سال ثابت ہوا۔ بنگلہ دیش کے دورے پر دونوں ٹیسٹ بارش سے متاثر ہونے کی وجہ سے ڈرا ہوئے اور پھر بھارت کا وہ دورہ شروع ہوا جس نے ہاشم آملا کی قیادت پر سخت ضرب لگائی۔

بھارت کے خلاف چار مقابلوں میں تین-صفر کی بھاری شکست کے بعد کئی حلقے ان کی قیادت پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکے تھے اور خود ہاشم آملا نے کہا ہے کہ انہوں نے قیادت چھوڑنے پر غور انگلستان کے خلاف سیریز سے پہلے ہی کیا تھا اور اس حوالے سے چند کھلاڑیوں سے بات بھی کی تھی۔ اپنے جاری کردہ بیان میں ہاشم آملا نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا، لیکن وہ یہ قدم اٹھانے کے بعد مطمئن ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب انہیں اپنے کھیل پر توجہ دینی چاہیے۔

ہاشم آملا نے مزید کہا کہ مجھے فخر ہے کہ جنوبی افریقہ کی قیادت کے لیے منتخب کیا گیا اور اس پورے عرصے میں مجھے اپنے ساتھیوں اور کوچنگ عملے کا پورا پورا تعاون حاصل رہا۔ میں اب بھی چاہتا ہوں کہ تمام طرز کی کرکٹ میں اپنی تمام صلاحیتوں کو جنوبی افریقہ کے لیے پیش کروں۔ ساتھ ہی انہوں نے نئے کپتان کو بھی پوری حمایت کا یقین دلایا۔

ڈربن میں شکست اور کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں ڈبل سنچری کے باوجود مقابلہ ڈرا ہونے کے بعد جنوبی افریقہ اس وقت عملی طور پر ایک-صفر سے خسارے میں ہے اور یہ نئے والے کپتان کے لیے ہرگز آسان نہیں ہوگا جس کے لیے ایک روزہ کپتان ابراہم ڈی ولیئرز کو منتخب کیا گیا ہے۔ جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ وہ ہاشم آملا کے فیصلے کا احترام کرتا ہے۔

اب جوہانسبرگ اور سنچورین میں ہونے والے اگلے دونوں ٹیسٹ مقابلے میں ڈی ولیئرز قیادت سنبھالیں گے جبکہ ہاشم ان کے ماتحت کھیلیں گے۔

Facebook Comments