پاکستان کے بزرگ ترین کھلاڑی اسرار علی انتقال کرگئے

ہر تناور درخت دراصل بہت سے قیمتی افراد کی محنتوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کا بیج بونے والے، نگہبانی کرنے والے اور پھر پروان چڑھانے والے۔ آج پاکستان کرکٹ جس مقام پر ہے، اسے یہاں تک پہنچانے میں بہت سے کھلاڑیوں کی زندگیوں کے کئی قیمتی ادوار شامل ہیں۔ ان کی خدمات کا بہترین صلہ یہی ہے کہ انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے مگر بدقسمتی سے وطن عزیز میں ایسے کئی قیمتی لوگ فراموش کردیے جاتے ہیں۔ شاید ہی کسی کو یاد ہو کہ پاکستان کے بزرگ ترین کھلاڑی اوکاڑہ میں اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہے تھے۔ سابق آل راؤنڈر اسرار علی 88 سال کی عمر میں یکم فروری کو وفات پا گئے۔

1927ء میں جالندھر میں پیدا ہونے والے اسرار علی نے 1952ء سے 1959ء کے دوران 4 ٹیسٹ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ کل 40 فرسٹ کلاس مقابلے کھیلے اور 114 وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 1130 رنز بھی بنائے۔

اسرار علی نے اپنے کیریئر کا آغاز قبل از تقسیم ہند 1946ء میں پنجاب کی جانب سے کیا تھا اور جب پاکستان بن گيا تو 1952ء میں بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی دستے کا حصہ بنے۔ انہوں نے اس تاریخی دورے میں دو ٹیسٹ مقابلے کھیلے۔ یہاں انہوں نے دہلی میں ہونے والے پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے پہلے ٹیسٹ میں شرکت کی اور اس کے بعد بمبئی ہونے والا تیسرا ٹیسٹ بھی کھیلا۔ 1959ء میں آسٹریلیا کے دورۂ پاکستان کے لیے انہیں دوبارہ ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا جس میں انہوں نے مزید دو ٹیسٹ کھیلے۔ اپنی پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کبھی اسرار علی نے کہا تھا کہ انہیں یاد ہے کہ کس طرح آسٹریلیا کے اوپنر لیس فیول کو انہوں نے چاروں اننگز میں فیلڈرز کی مدد کے بغیر آؤٹ کیا تھا۔

اسرار علی بائیں ہاتھ سے تیز گیندبازی کرتے تھے اور انہیں پاکستان کے پہلے کپتان عبد الحفیظ کاردار ہی کے اصرار پر پاکستان کے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے دستے میں شامل کیا گیا تھا۔ لیکن اسرار علی باؤلنگ کے زیادہ شیدائی دکھائی دیتے تھے جبکہ عبد الحفیظ کاردار انہیں بلے بازی میں آزمانا چاہتے تھے جس کی وجہ سے دونوں کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا ہوا اور بقول اسرار علی کے یہی کیریئر کے مختصر ہونے کی وجہ بنی، جن کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی زندگی کی سب سے بڑی شرمندگی یہی ہے کہ میں نے عبد الحفیظ کاردار کے ساتھ اچھا رویہ اختیار نہیں کیا۔ بعد میں انہوں نے کاردار سے معافی تلافی تو کرلی لیکن اس وقت تک کافی دیر ہو چکی تھی اور اسرار کا کیریئر پھر بحال نہیں ہو سکا۔

کرکٹ سے شدید لگاؤ کی وجہ سے اسرار علی بعد میں بھی کھیل سے منسلک رہے۔ 1981ء میں ملتان ریجن کے صدر بنے اور اس کے بعد 1983ء میں قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ لیکن 1987ء میں وہ کرکٹ سے مکمل طور پر الگ ہوکر اپنے آبائی علاقے اوکاڑہ منتقل ہوگئے۔ ایک سادہ زندگی گزارنے والی ملنسار شخصیت بالآخر اس دنیا میں نہیں رہی۔

اسرار علی جنوری 2011ء میں محمد اسلم کھوکھر کے انتقال کے بعد پاکستان کے سب سے زیادہ عمر رکھنے والے کرکٹر بنے تھے۔ اب پاکستان کے بزرگ ترین کھلاڑی امتیاز احمد ہیں جن کی موجودہ عمر 88 سال اور 28 دن ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے امتیاز احمد بھی اس دستے کا حصہ تھے جس نے اکتوبر 1952ء میں دہلی ٹیسٹ کھیلا تھا۔

israr-ali

Facebook Comments