ٹیسٹ کا بدلہ ون ڈے میں، جنوبی افریقہ کا 'عظیم فرار'

ٹیسٹ سیریز میں بدترین شکست اور اس کے بعد ابتدائی دونوں ایک روزہ مقابلوں میں ہار کھانے کے بعد جنوبی افریقہ واپسی کرے گا؟ اس کی توقع کم ہی لوگوں کو تھی۔ لیکن 'پروٹیز' نے اس بہت بڑے چیلنج کو قبول کیا نہ صرف یہ کہ پہلے تیسرا اور چوتھا ون ڈے جیت کر سیریز برابر کی بلکہ آخری و فیصلہ کن مقابلے میں شاندار کامیابی حاصل کرکے سیریز تین-دو سے جیت لی۔ یہ کرکٹ کی تاریخ میں محض تیسرا موقع ہے کہ کوئی ٹیم پانچ مقابلوں کی سیریز میں دو-صفر سے خسارے میں جانے کے باوجود بقیہ تینوں میچز جیت کر سیریز اپنے نام کرلے۔

عالمی کپ 2015ء میں بدترین شکست کے بعد سے اب تک انگلستان کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو بہت عمدہ دکھائی دیہی ہے۔ پہلے نیوزی لینڈ اور پاکستان کے خلاف سیریز فتوحات اور پھر آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست لیکن زبردست مقابلے۔ ان مسلسل کامیابیوں کی بنیادی وجہ انگلستان کی جارحانہ حکمت عملی رہی۔ لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف بڑی برتری لینے کے باوجود اس حکمت عملی میں کچھ تبدیلی نظر آئی اور غالباً شکست کی وجہ یہی ہے۔

کیپ ٹاؤن میں ہونے والے پانچویں ایک روزہ میں 237 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کا 'ٹاپ آرڈر' ریس ٹوپلی کے ساتھ لڑکھڑایا لیکن ہاشم آملا کی نصف سنچری اور سب سے بڑھ کر ابراہم ڈی ولیئرز کی شاندار قائدانہ اننگز نے جنوبی افریقہ کو پانچ وکٹوں سے ہمکنار کیا۔ قبل ازیں ٹاس بھی ڈی ولیئرز نے ہی جیتا تھا اور گزشتہ مقابلے کی طرح ایک مرتبہ پھر انگلستان کو بلے بازی کی دعوت دی۔ انگلستان کے لیے گزشتہ دو شکستوں اور اس شکست میں ایک مماثلت اور تھی۔ گزشتہ دونوں میچز میں جو روٹ نے سنچری کی اور کسی نے ان کا ساتھ نہیں دیا، یہاں پانچویں مقابلے میں ایلکس ہیلز نے سنچری بنائی مگر اس بار وہ بھی تن تنہا ہی رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پوری ٹیم 45 اوورز میں 236 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

کیپ ٹاؤن کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہاں آج تک کوئی ٹیم 257 رنز سے زیادہ کا ہدف حاصل نہیں کر سکی۔ اگر انگلستان کے چند ایک بلے باز ایلکس ہیلز کا ساتھ دے دیتے تو شاید 257 رنز کی یہ 'نفسیاتی حد' عبور کی جا سکتی تھی لیکن غیر ذمہ دارانہ شاٹس اور ان پر کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔

ایک وقت تھا کہ انگلستان 28 ویں اوور میں صرف تین وکٹوں پر 155 رنز کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس وقت اس کی نظریں 300 رنز پر تھی لیکن پھر 'چراغوں میں روشنی نہ رہی'۔ آخری سات وکٹیں صرف 81 رنز پر گر گئیں۔ اس اننگز میں واحد قابل ذکر کارکردگی ہیلز کی رہی کہ جنہیں 20 رنز پرآؤٹ قرار دے دیا گیا تھا لیکن فیصلہ چیلنج کرکے انہوں نے نئی زندگی لی اور پھر اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ 112 رنز کی اس اننگز کو اگر نکال دیں تو صرف 'خسارہ' بچتا ہے۔

David-Wiese

اس دوران ہیلز نے مسلسل پانچویں مرتبہ 50 یا اس سے زیادہ رنز کی اننگز کھیلی اور یہ کارنامہ انجام دینے والے انگلستان کے پانچویں بلے باز بن گئے۔ کیریئر کی اس دوسری ایک روزہ سنچری کے ذریعے ہیلز نے سیریز میں سب سے زیادہ 383 رنز بھی بنائے اور سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی حاصل کیا، یعنی صرف میچ اور سیریز نہ جتوا سکے، باقی سب کچھ کیا۔

ہدف کے تعاقب میں جب جنوبی افریقہ کے صرف 22 رنز پر تین کھلاڑی آؤٹ ہوئے تو مقابلہ دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا۔ لیکن ہاشم آملا اور ابراہم ڈی ولیئرز نے مزید "دلچسپی" کا سامان نہیں ہونے دیا اور چوتھی وکٹ کے لیے 125 رنز بنا کر پوزیشن کافی حد تک مستحکم کردی۔ ہاشم آملا 59 رنز بنانے کے بعد معین علی کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔

آنے والے بلے باز فرحان بہاردین زیادہ دیر کپتان کا ساتھ نہ دے سکے۔ یہاں ڈیوڈ ویز آئے اور 41 رنز کے ساتھ اپنی گزشتہ ناکامیوں کا کچھ ازالہ کرلیا۔ ڈی ولیئرز کی ذمہ دارانہ اننگز 101 رنز تک پہنچی۔ وہ ناٹ آؤٹ میدان سے واپس آئے اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

اب دونوں ٹیمیں 19فروری سے ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلیں گی۔

Facebook Comments