پاکستان کا پلڑا بھاری ہوگا، سنیل گاوسکر

برصغیر کی کون سی گلی اور محلہ ہے، کون سا گھر اور دفتر ہے کہ جہاں 19 مارچ کے پاک-بھارت مقابلے کا تذکرہ نہ ہو رہا ہو۔ تذکرہ تو خیر اپنی جگہ یہاں تو ماہرانہ آرا گلی، گلی بکھری پڑی ہیں۔ کہیں پاکستان کی جیت کے دعوے ہو رہے ہیں تو کہیں بھارت کو بطور فاتح پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ تو خیر عام آوازیں ہیں لیکن بھارت کے سابق کپتان اور عظیم بلے باز سنیل گاوسکر کی رائے واقعی بہت اہمیت رکھتی ہیں، جنہوں نے اس "خدشے" کا اظہار کیا ہے کہ ایڈن گارڈنز میں پاکستان کی کارکردگی دیکھ کر گمان ہو رہا ہے کہ اس مرتبہ بازی پاکستان کے نام رہے گی۔

ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے گاوسکر نے کہا کہ پاکستان نے ایڈن گارڈنز میں وارم اپ بھی کھیلا ہے اور پھر بنگلہ دیش کے خلاف "سپر10" کا پہلا مقابلہ بھی اسی میدان پر ہوا اور دونوں ہی میں کامیابی سمیٹی۔ گو کہ یہ میدان بھارت کے لیے "گھر" کی حیثیت رکھتا ہے لیکن دو مقابلے کھیل کر پاکستان کو یہاں کی وکٹ کا بخوبی اندازہ ہوچکا ہے جو بھارت کے لیے خطرے کی علامت ہے۔

پاکستان نے کلکتہ کے اس تاریخی میدان پر بنگلہ دیش کے خلاف گزشتہ روز پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 201 رنز بنائے تھے اور بعد ازاں 55 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ گو کہ یہ کامیابی ایک بھرپور اجتماعی کوشش کا نتیجہ تھی لیکن خاص پہلو کپتان شاہد آفریدی کی کارکردگی تھی کہ جنہوں نے صرف 19 گیندوں پر 49 رنز بنائے اور پھر دو قیمتی وکٹیں بھی حاصل کیں۔

pakistan-india-cricket-fans

پاکستان کا اگلا مقابلہ یہیں پر بھارت کے ساتھ ہے، جو حقیقی منصوبے کے مطابق تو دھرم شالا میں کھیلا جانا تھا لیکن وہاں حالات ناسازگار ہونے کی وجہ سے اسے ہنگامی طور پر کلکتہ منتقل کیا گیا ہے۔ پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کے لیے براہ راست یہیں پہنچا ہے اور اسے بھرپور واقفیت مل چکی ہے۔ پھر تاریخ بھی پاکستان کے ساتھ ہے کہ جس نے یہاں کوئي ٹی ٹوئنٹی مقابلہ تو نہیں کھیلا لیکن روایتی حریف کے خلاف ایڈن گارڈنز پر کبھی کسی ایک روزہ میں شکست نہیں کھائی۔

یہی وجہ ہے کہ گاوسکر کہے ہیں کہ پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ میں بھارت سے کبھی کوئی مقابلہ نہیں جیت سکا، لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مسلسل شکسوں کے بعد پاکستان کامیابی کے لیے بے تاب ہوگا اور حصول کے لیے آفریدی الیون کچھ بھی کر سکتی ہے۔

سابق عالمی چیمپئن بلے باز نے کہا کہ بھارت یقیناً اعزاز کے لیے مضبوط امیدوار ہے، لیکن مقابلے سے قبل اس کے لیے کافی پریشان کن صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ سب سے بڑی پریشانی تو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست ہے کہ جہاں صرف 127 رنز کے ہدف کے حصول میں بری طرح ناکامی ہوئی، جو ہرگز بھارت کے لیے اچھی خبر نہیں۔ بھارت بلے بازی کی ہی وجہ سے خطرناک تصور کیا جاتا ہے اور جب بیٹنگ ہی ناکام ہو جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ معاملات کس طرف جا رہے ہیں۔ اپنی بات مزید آگے بڑھاتے ہوئے گاوسکر نے کہا کہ اگر ہم اس بات پر مطمئن ہیں کہ بھارت ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کبھی پاکستان سے نہیں ہارا تو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ایڈن گارڈنز میں بھارت کبھی پاکستان سے جیت بھی نہیں سکا۔

Facebook Comments