ڈے نائٹ ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل ہیں: رچرڈ ہیڈلی

زمانہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اس لیے کھیل کو بھی ہونا چاہیے۔ گزشتہ پچیس، تیس سالوں میں کرکٹ بھی خاصی بدل گئی ہے اور اب جو نئی جدت آ رہی ہے وہ ہے ڈے نائٹ ٹیسٹ کرکٹ۔

ایک روزہ اور اس کے بعد ٹی ٹوئنٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت حاصل کی ہے، اس سے ٹیسٹ کرکٹ کو سخت دھچکا پہنچا ہے۔ اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ کو اب پچاس سال پہلے والی شہرت حاصل نہیں ہو سکتی، لیکن کم از کم اسے "مرنے" سے تو بچایا جا سکتا ہے اور یہی سوچتے ہوئے یہ قدم اٹھایا گیا اور گزشتہ سال نومبر میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ کھیلا تو شائقین کرکٹ کی بڑی تعداد میدان میں میچ دیکھنے کے لیے آئی۔

ماضی کے عظیم گیندباز رچرڈ ہیڈلی کہتے ہیں کہ بلاشبہ ڈے نائٹ ٹیسٹ طویل طرز کی کرکٹ کا مستقبل ہیں، لیکن اس کے لیے جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

رواں سال جنوبی افریقہ اور پاکستان نے بھی آسٹریلیا کے ساتھ ڈے نائٹ ٹیسٹ کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس میں گلابی گیند کا استعمال کیا جائے گا۔ ہیڈلی کہتے ہیں کہ ایک سیریز میں ایک ایسا مقابلہ ہونا کافی ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں ابھی بھی زیادہ تر افراد روایتی کرکٹ کو دن میں کھیلتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

گلابی گیند کی پائیداری پر اٹھنے والے سوالات اور برصغیر میں رات کے وقت پڑنے والی اوس کے اثرات کی وجہ سے ابھی بھی ڈے نائٹ ٹیسٹ کا مستقبل روشن نہیں لیکن جہاں اور جیسے ممکن ہو ایسے اقدامات اٹھانا ٹیسٹ کرکٹ کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ دنیا بھر کے مختلف میدانوں پر حالات مختلف ہیں، اس لیے یہ کہنا تو قبل از وقت ہوگا کہ یہ تجربہ ہر جگہ ہو سکتا ہے۔

ہیڈلی نے کہا کہ کھلاڑیوں کو ایسی گیند اور ماحول سے مطابقت حاصل کرنے کے لیے تربیتی مقابلے کھیلنے چاہئیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ انہیں میدان میں اتار دیا جائے اور پھر توقع رکھی جائے کہ وہ گلابی گیند سے رات کے وقت اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔

day-night-test

Article Tags

Facebook Comments