نمبر ایک پاکستان، وقار یونس شادمان

کہتے ہیں نا کہ "ہمتِ مرداں، مددِ خدا"، دل و جان سے محنت کرنے والوں کی مدد غیب سے آتی ہے اور غیر متوقع حالات خود بخود حق میں پلٹنے لگتے ہیں۔ دورۂ انگلستان کے لیے پاکستان کی سخت محنت اور مشکل مرحلے تک پہنچنے کے بعد دو-دو سے برابری نے پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن بچائے رکھی، جس کے بعد سری لنکا نے عالمی نمبر ایک آسٹریلیا کو تین-صفر کی عبرت ناک شکست دی اور یوں آسٹریلیا درجہ بندی میں زوال کھاتا ہوا تیسرے نمبر پر آ گیا اور پاکستان دوسرے پر چلا گیا۔ ویسٹ انڈیز کے مقابل کھیلنے والا بھارت نیا عالمی نمبر ایک بن گیا، لیکن صرف "چار دن کی چاندنی" کے بعد چوتھا ٹیسٹ بارش کی نذر ہوتے ہی ایک نئے عہد کا آغاز ہوگیا۔ پاکستان 111 پوائنٹس کے ساتھ نیا عالمی نمبر ایک بن گیا، جو پاکستان کے حالات اور ماضی قریب کے تناظر میں ایک غیر معمولی بات ہے۔

چھ، سات سال قبل پاکستان کرکٹ جس بدترین صورت حال سے دوچار ہوئی، اس میں جن لوگوں نے قومی کرکٹ کو سنبھالا دیا، کئی تاریخی کامیابیوں میں اپنا کردار ادا کیا، ان میں سے ایک سابق کوچ وقار یونس بھی تھے، جو اس تاریخی لمحے کو مصباح الحق کی مثبت سوچ اور متحمل مزاجی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ماضی میں کپتان رہنے والے وقار کا کہنا ہے کہ ہر پاکستانی اس اہم سنگ میل کو حاصل کرنے پر خوشی اور فخر محسوس کرتا ہے۔

ایک انٹرویو میں وقار یونس نے کہا کہ یہ مصباح اور ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کے لیے بہت بڑا لمحہ ہے، جو ثابت کررہا ہے کہ محنت کا صلہ ضرور ملتا ہے۔ گزشتہ سات، آٹھ سالوں میں پاکستان بہت مشکل سے گزرا، بہت سے تنازعات میں گھر جانے کے علاوہ ٹیم طویل عرصے سے اپنے ملک میں کھیلنے سے محروم ہے۔ کھلاڑی اکثر سفر میں رہتے ہیں، وہ دوسرے ممالک میں کھیلنے پر مجبور ہیں لیکن فخر کی بات یہ ہے کہ ان حالات میں بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ شاندار کرکٹ کا سلسلہ جاری رکھا اور اب نمبر ون بن گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی درجہ بندی، پاکستانی کھلاڑیوں کا نامہ اعمال

وقار یونس نے دو ادوار میں پاکستان کی کوچنگ کی، ایک مارچ 2010ء سے اگست 2011ء تک، جس دوران پاکستان نے پانچ ٹیسٹ کھیلے، ایک جیتا، ایک میں شکست کھائی اور تین برابر رہے۔ وقار کا دوسرا دور مئی 2012ء سے اپریل 2016ء تک رہا جس میں پاکستان نے چار ٹیسٹ سیریز جیتیں، صرف ایک میں شکست کھائی اور ایک برابری کی بنیاد پر ختم ہوئی۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وقار کے دور ہی میں ٹیسٹ دستہ مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہو گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود وقار یونس نے نمبر ایک بننے میں حقیقی کردار مصباح الحق کو قرار دیا ہے، جن کے کھیل کے انداز پر بہت انگلیاں اٹھیں۔ انہیں سابق کھلاڑیوں اور کرکٹ کے با اثر حلقوں نے بہت گرانے کی کوشش بھی کی، لیکن مصباح کوئی سخت ردعمل دکھائے بغیر ہر تنقید کا جواب میدان میں دیا اور نتیجہ آج دنیا کے سامنے ہے۔

وقار یونس نے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ 90ء کے عشرے میں قومی ٹیم میں بڑے نام شامل تھے، میرے علاوہ وسیم اکرم، انضمام الحق، سعید انور، شعیب اختر اور محمد یوسف جیسے کھلاڑی مل کر بھی پاکستان کو عالمی درجہ بندی میں سرفہرست نہ لا سکے، جو آج موجودہ ٹیم نے کر دکھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "موجودہ بہت سے کھلاڑی میری کوچنگ کے دور کے ہیں۔ سعید اجمل، اظہر علی، اسد شفیق اور یاسر شاہ بہترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کو اس مقام تک لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مجھے بہت خوشی ہے، اتنی ہی جتنی ایک باپ کو اپنی اولاد کی کامیابی پر ہوتی ہے اور امید ہے کہ ٹیم اسی جذبے سے آگے بڑھتی رہے گی اور طویل مدت تک اس مقام کو برقرار رکھے گی۔

Facebook Comments