انگلستان کا ایک مرتبہ پھر ثقلین مشتاق کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ

معین علی اور عادل رشید کی گیندبازی کو موثر بنانے کے لیے انگلستان نے ایک مرتبہ پھر ثقلین مشتاق کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کے آف اسپن لیجنڈ ثقلین مشتاق انگلستان کے دورۂ بنگلہ دیش و بھارت سے قبل دونوں انگلش اسپنرز کو مفید مشورے دیں گے تاکہ وہ برصغیر کے چیلنجز سے نبرد آزما ہو سکیں۔

گزشتہ سال متحدہ عرب امارات کے میدانوں پر پاکستان کے خلاف دونوں گیندباز جدوجہد کرتے دکھائی دیے تھے۔ عادل نے امارات میں اتنی زیادہ فل ٹاس گیندیں پھینکی تھیں کہ کپتان ایلسٹر کک کے پاس تیز گیند بازوں کو زیادہ استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔ دوسری طرف اس سال معین علی کی کارکردگی بھی کچھ متاثر کن نہں رہی۔ گزشتہ ہفتے معین کی فل ٹاس گیندوں میں سے ایک اتنی زیادہ بلند تھی کہ وکٹ کیپر بھی اسے پکڑنے سے قاصر رہا۔

انگلستان نے اولڈ ٹریفرڈ کے میدان پر پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے ثقلین مشتاق کی خدمات حاصل کی تھیں جنہوں نے معین اور عادل کے ساتھ کچھ وقت گزارا تھا۔ معین علی نے اس حوالے سے 'ڈیلی ٹیلیگراف' بتایا تھا کہ ’’ثقلین نے تکنیکی پہلو کے حوالے سے زیادہ گفتگو نہیں کی، تاہم انہوں نے ایک دو گُر ضرور بتائے جن پر میں اس وقت سے کام کر رہا ہوں۔ ان میں سے زیادہ تر باتیں اسپن کرواتے ہوئے مائنڈ سیٹ یعنی ذہنی رویے سے متعلق تھیں۔" انہوں نے بتایا کہ اسپن گیند بازی کرنا کشتی کے ذریعے طویل بحری سفر جیسا ہوتا ہے جس میں بعض اوقات طوفان کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ لیکن جیسے ہی طوفان ختم ہو تو آپ کو دوبارہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں معین علی نے چار میچز میں 11 وکٹیں حاصل کیں اور سیریز کے بہترین گیند بازوں میں چھٹے نمبر پر رہے۔ دوسری طرف پاکستان کے یاسر شاہ نے اتنے ہی مقابلوں میں 19 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ایک روزہ سیریز میں عادل رشید چار مقابلوں میں 8 وکٹیں لے کر دوسرے نمبر پر اور معین 3 وکٹیں لے کر آٹھویں نمبر پر رہے۔

ویسے کیا آپ کے خیال میں پاکستانی کرکٹ کو بھی ثقلین مشتاق کی صلاحیتوں اور تجربے سے استفادے کی ضرورت ہے؟

Facebook Comments