ڈوپ ٹیسٹ میں ناکامی؛ تھارنگا تین ماہ کے لیے معطل

سری لنکا کے اوپننگ بلے باز اوپل تھارنگا کو ڈوپ ٹیسٹ مثبت ثابت ہونے پر تین ماہ کی پابندی لگا دی گئی ہے۔ وہ تمام اقسام کی کرکٹ اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔ تھارنگا پر یہ پابندی آئی سی سی کے اینٹی ڈوپنگ کوڈ کی شق 2.1 کی خلاف ورزی پر لگائی گئی ہے۔

اوپل تھارنگا اپنی غیر ارادی حرکت پر شائقین کے سامنے شرمندہ ہیں

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے کرک نامہ کو موصول ہونے والے اعلامیہ کے مطابق 26 سالہ تھارنگا عالمی کپ 2011ء کے سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے مابین ہونے والے سیمی فائنل کے بعد آئی سی سی کی اچانک ٹیسٹ کرنے والی ٹیم کے روبرو ٹیسٹ دینا پڑے تھے۔ڈوپ ٹیسٹ مثبت ثابت ہونے پر انہیں دورۂ انگلستان کے لیے ٹیم میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔

ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کی منظور شدہ تجربہ گاہ میں ان کے دیے گئے پیشاب کے نمونے کو تجربے سے گزارا گیا اور اس میں دو گلوکوکورٹی کوسٹرائیڈز – پریڈنیسون اور پریڈنیسولون- کی میٹابولائٹس پائیں گئیں۔ یہ واڈا کی ممنوعہ فہرست میں شمار ہوتی ہیں اور کھیل کے دوران ان کا استعمال ممنوع ہے۔

اس سلسلے میں آزاد اینٹی ڈوپنگ ٹریبونل نے آج وڈیو کانفرنس کے ذریعے سماعت گوش گزار کی اور شواہد کو پرکھا۔ ٹریبونل نے تسلیم کیا کہ تھارنگا نے کندھے کی طویل انجری سے ہونے والی بے آرامی کے خاتمے کے لیے ایک نباتاتی دوا لی جس میں یہ ممنوعہ اشیاء شامل تھیں اور معلوم ہوا کہ تھارنگا نے اپنی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے اس دوا کے استعمال کا ارادتاً استعمال نہیں کیا۔

ٹریبونل نے تھارنگا کو تین ماہ کی پابندی کی سزا سنائی جس کا اطلاق 9 مئی 2011 سے ہوگا۔ یوں وہ 9 اگست 2011ء سے تمام اقسام کی کرکٹ کھیلنے کے اہل ہو جائیں گے۔

فیصلے کے بعد تھارنگا کا کہنا تھا کہ وہ شائقین اور سری لنکا کرکٹ کو چاہنے والوں سے معافی کے خواستگار ہیں کیونکہ ان سے غیر ارادی طور پر ایک جرم سرزد ہوا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میرے ساتھی کھلاڑی اس سے سبق حاصل کریں کے اور طبی علاج کرتے ہوئے زیادہ چوکنے رہیں گے، تاکہ ان کے کیریئر متاثر نہ ہوں۔

Facebook Comments