ہوبارٹ ٹیسٹ، آسٹریلیا خطرہ مول لینے کو تیار

جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست خوردہ آسٹریلیا نے دوسرے مقابلے میں چھ 'اسپیشلسٹ' بلے بازوں کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امکان ہے کہ 32 سالہ کیلم فرگوسن ٹیسٹ کیپ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

پرتھ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں 177 رنز کی شکست کے بعد تبدیلیاں تو بنتی ہی ہیں، لیکن آسٹریلیا کچھ زیادہ ہی بے تاب نظر آ رہا ہے۔ مچل اسٹارک کو آرام نہ دینے کا فیصلہ کہیں بعد میں گلے ہی نہ پڑ جائے۔ پہلے ٹیسٹ میں اسٹارک کی واپسی اس حال میں ہوئی تھی کہ وہ 100 فیصد صحت یاب نہیں تھے۔ اس کے باوجود انہیں جنوبی افریقہ کی دوسری اننگز سمیٹنے کے لیے 31 اوورز کروانے پڑے۔ اب ان کی فٹنس کو خطرہ تو لاحق ہے، لیکن آسٹریلیا انہیں ایک بار پھر میدان میں اتار کر اس خطرے کو مول لیتا دکھائی دے رہا ہے۔ آسٹریلیا کے کوچ ڈیرل لیمین نے واضح کردیا ہے کہ اگر کوئی کھلاڑی بے آرامی محسوس کرے گا تو وہ طبی عملے اور پھر سلیکٹرز کو آگاہ کرے گا جبکہ اسٹارک میچ کھیلنے کے لیے بالکل تیار ہیں۔ کوچ نے تسلیم کیا اگرچہ حالات آئیڈیل نہیں ہیں لیکن ہم یہ خطرہ مول لینے میں خوش ہیں۔

کپتان اسمتھ نے تصدیق کی کہ پرتھ ٹیسٹ میں ہیمسٹرنگ کا شکار ہونے والے ایڈم ووجس بھی کھیلنے کے لیے فٹ ہیں۔ گویا ایک بلے باز کو شامل کرنے کے لیے آسٹریلیا کو ایک گیندباز کی قربانی ہی دینی پڑے گی۔ اگر ہوبارٹ میں چار تیز بالرز کھلائے گئے تو امکان یہی ہے کہ نیتھن لیون بینچ پر بیٹھیں گے۔البتہ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ بطور کپتان ٹیسٹ میچ میں کبھی اسپیشلسٹ اسپنر کے بغیر نہیں اترے ہیں اور وہ ابھی اس بارے میں مکمل پُر اعتماد نہیں ہیں۔ البتہ صبح وکٹ اور موسم کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  [سالنامہ 2015ء] سال کے بہترین ٹیسٹ بلے باز

سنیچر کو شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے لیے موسم کی پیش گوئی تاحال مثبت نہیں ہے۔ خدشہ ہے کہ ابتدائی دو دن تیز بارش کے باعث کھیل متاثر ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا اور میچ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے تمام ہوا تو سیریز میں جنوبی افریقہ کی برتری ناقابل شکست صورت اختیار کر جائے گی کیونکہ سیریز صرف تین میچز کی ہے۔

Facebook Comments