ڈی ولیئرز قیادت سے دستبردار ہوگئے

جنوبی افریقہ کے ٹیسٹ کپتان ابراہم ڈی ولیئرز پروٹیز دستے کی حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے موجودہ کپتان فف دوپلیسی کے حق میں دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ڈی ولیئرز زخمی ہونے کی وجہ سے آسٹریلیا کے دورے پر نہیں گئے تھے اور ان کی عدم موجودگی میں دو پلیسی کو ذمہ داری سونپی گئی۔ اب انہیں یہ منصب مستقل بنیادوں پر دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اس میں ڈی ولیئرز کی رضا مندی بھی شامل ہے۔

اے بی ڈی ولیئرز کا کہنا ہے کہ ہم سب کو ذاتی مفاد سے زیادہ ملکی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے اور میں نے اسی سوچ کے ساتھ پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ میرے لئے ٹیسٹ دستے کی قیادت کرنا بڑا اعزاز تھا مگر میں پہلے ہی دو اہم سیریز ضائع کر چکا ہوں اور سری لنکا کے خلاف آئندہ سیریز کے حوالے سے بھی مکمل پر اعتماد نہیں۔ دوسری طرف دوپلیسی بہت اعتماد اور کامیابیوں کے ساتھ قیادت کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں، خاص کر آسٹریلیا کے مقابل، اس لئے اس کے مستقل کپتان بننے کے لیے ان کی حمایت ٹیم کے وسیع تر مفاد میں کی ہے۔

ڈی ولیئرز جولائی میں کیریبین پریمیئر لیگ سے اب تک تمام طرز کی کرکٹ سے سے دور ہیں، جس کی وجہ ان کی کہنی میں تکلیف ہے۔ اکتوبر میں سرجری کی گئی مگر صحت یابی کی جانب سفر بہت دھیما ہے۔ کپتان نے نیٹ پریکٹس کا آغاز تو کر دیا ہے اور وہ مقامی ٹی20 سیریز کھیلنے کی امید لگائے بھی ہوئے تھے مگر میڈیکل کمیٹی نے فی الحال ایسی خواہش کو مسترد کر دیا ہے اور مزید آرام کا مشورہ دیا ہے۔

آسٹریلیا کو ایک روزہ میں پانچ-صفر سے شکست دینے کے بعد دوپلیسی کی قسمت کا ستارا یقیناً بلندیوں پر ہے مگر ساتھ ہی وہ بال ٹیمپرنگ جیسے تنازع میں بھی پھنس چکے ہیں۔ منہ میں ٹافی رکھ کر اس کے تھوک سے گیند کو چمکاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد سزا کے طور پر میچ فیس کا 100 فیصد جرمانہ پہلے ہی بھگت چکے ہیں اور 19 دسمبر کو انہیں اگلی پیشی بھی بھگتنی ہے۔ یعنی اندیشہ موجود ہے کہ فف کو سری لنکا کے خلاف پہلے میچ سے بھی ہاتھ دھونا پڑ جائیں، لیکن وہ اپنے قائد اور بچپن کے دوست ڈی ولیئرز کی مکمل حمایت پر مطمئن بھی ضرور ہوں گے۔

AB-Faf

Facebook Comments