ریٹائر نہیں ہو رہا، ڈی ولیئرز نے واضح کردیا

جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈی ولیئرز کا شمار جدید کرکٹ کے موثر ترین بلے بازوں میں ہوتا ہے، چاہے وہ طویل طرز کی کرکٹ ہو یا محدود اوورز پر مشتمل، ڈی ولیئرز تمام فارمیٹس میں 'پروٹیز' کا موثر ترین ہتھیار ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے اے بی کہنی کی تکلیف کے شکار ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ سے باہر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کیریئر کے متعلق قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں لیکن اپنے حالیہ انٹرویو میں ڈی ولیئرز نے ان تمام افواہوں کا خاتمہ کردیا ہے کہ وہ عالمی کپ 2019ء تک کہیں نہیں جائیں گے اور تینوں طرز کی کرکٹ میں اپنے جوہر دکھاتے رہیں گے۔

گزشتہ دنوں قائم مقام کپتان فف دو پلیسی اور کوچ رسل ڈومنگو نے عندیہ دیا تھا کہ ڈی ولیئرز کے لیے ٹیسٹ کیریئر جاری رکھنا آسان نہیں ہوگا اس لیے عین ممکن ہے کہ وہ طویل طرز سے علیحدہ ہونے کا اعلان کردیں۔ لیکن ڈی ولیئرز نے اس خدشے کو بھی رد کردیا ہے اور ٹیسٹ کیریئر جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

جنوبی افریقی کپتان کا کہنا ہے کہ میرا اصل ہدف 2019ء کا عالمی کپ اور میں اس وقت تک خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر فٹ رکھنا چاہتا ہوں۔ اس لیے خود پر سے میچز کا بوجھ کم کروں گا تاکہ تھکاوٹ اور انجریز سے بچ سکوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے اندازہ ہے کہ موجودہ کرکٹ میں 35 سال سے زائد کھلاڑی کے لئے تینوں فارمیٹ کھیل پانا آسان نہیں مگر چونکہ میری 32 سال عمر ہے اس لئے میں مزید چند سال تینوں طرز کی کرکٹ جاری رکھوں گا، خاص کر 2019ء تک اور ویسے بھی ہر طرح کی کرکٹ کھیلنے سے کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔

اپنی انجری کے متعلق بتاتے ہوئے ڈی ولیئرز نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کہنی کی انجری سے نجات پا چکے ہیں اور گزشتہ سال اگست سے کرکٹ سے دوری کا سلسلہ اب سلسلہ ختم ہونے والا ہے۔ البتہ وہ مارچ میں نیوزی لینڈ کے ساتھ ٹیسٹ سیریز نہیں کھیلیں گے۔

یاد رہے کہ ڈی ولیئرز گزشتہ سال جولائی میں کیریبین پریمیئر لیگ میں کہنی کی انجری کا شکار ہوئے تھے اور تاحال ملک کی نمائندگی سے محروم ہیں۔

Facebook Comments