پشاورمیں کچھ بات تو ہے!!

وہ دور اب گیا جب پاکستان میں کرکٹ کا کھیل لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں کی جاگیر تھا ۔وقت گزرنے کیساتھ ساتھ نہ صرف پنجاب کے چھوٹے شہروں سے اُبھرنے والے ٹیلنٹ نے پاکستانی ٹیم تک جگہ بنائی بلکہ خیبر پختونخواہ کے کھلاڑی بھی تواتر کیساتھ انٹرنیشنل کرکٹ کا حصہ بنتے رہے۔ اگر صرف خیبر پختونخواہ کی بات کریں تو ماضی میں فرخ زمان کے بعدذاکر خان، کبیر خان، ارشد خان، فضل اکبر اوروجاہت اللہ واسطی جیسے کھلاڑیوں نے اس خطے کا نام روشن کیا اور گزشتہ چند برسوں میں جنید خان،یاسر شاہ نے لاجواب کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ محمد رضوان اور عمران خان کی انٹرنیشنل کرکٹ میں اچھی کارکردگی کیساتھ ساتھ خیبرپختونخواہ کے کئی نوجوان کھلاڑی اس وقت قومی ٹیم کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔

خیبرپختونخواہ اور خاص طور پر پشاور سے اچھے کھلاڑیوں کی آمد محض اتفاق نہیں ہے بلکہ ڈومیسٹک سطح پر اُس کارکردگی کی عکاسی ہے جو پشاور کی ٹیم گزشتہ چند برسوں سے دکھا رہی ہے۔ پشاور نے 2014ء میں قومی ٹی 20کپ جیتا اور پھر اگلے برس یہ اعزاز برقرار رکھنے کیساتھ ساتھ پختونخواہ کی ٹیم نے پنٹنگولر کپ جیتا اور پھر اسی ٹیم نے 2016ء میں پاکستان کپ میں ٹائٹل اپنے نام کیا جس کے بعد 2017ء کا آغاز پشاور نے ریجنل ون ڈے کپ کی کامیابی سے کیا ہے جس کے فائنل میں گوہر علی (145*)اور افتخار احمد(131*)نے شاندار سنچریاں اسکور کرتے ہوئے پشاور کو ٹائٹل فتح دلوائی ۔اس کے علاوہ حال ہی میں ڈومیسٹک سرکٹ کا حصہ بننے والی فاٹا کی ٹیم نے بھی تینوں فارمیٹس میں کئی بڑی ٹیموں کو ناکوں چنے چبواتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ پختون سرزمین صلاحیت کے اعتبار سے نہایت زرخیز ہے۔

ان حالیہ کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے پشاور کی فتوحات کو فلوک قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس ٹیم نے اپنی انتھک محنت کی بدولت اپنے سے بڑی ٹیموں کو متعدد مرتبہ زیر کرتے ہوئے ٹائٹل جیتے ہیں ۔ حال ہی میں ختم ہونے والے قومی ون ڈے کپ میں کراچی کی دونوں ٹیمیں انٹرنیشنل کھلاڑیوں سے لیس تھیں اور ان دونوں ٹیموں کو ناک آؤٹ مرحلے پر ان کے ہوم گراؤنڈ پر بڑے مارجن سے زیر کرنا کسی کارنامے سے کم نہیں ہے۔ ماضی میں پشاور کی ٹیم ٹی20 ٹورنامنٹس میں سیالکوٹ کی چمپئن ٹیم کا بھی یہی حال کرچکی ہے ۔پشاور کی یہ کامیابیاں اس ٹیم ورک کا نتیجہ ہے جس پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ ٹیم کامیابیاں حاصل کرتی ہے۔ پشاور نے پہلی مرتبہ جب ٹی20ٹائٹل اپنے نام کیا تو آل راؤنڈر زوہیب خان کی کپتانی میں کھیلنے والی اس ٹیم میں کوئی بڑا نام شامل نہیں تھا مگر اس کے باوجود پشاور نے فتح حاصل کی اور اگلے برس اپنے کارنامے کو دہراتے ہوئے ناقدین کے منہ بند کردیے۔

زویب خان

زویب خان

پچھلے چند برسوں میں پشاور کے متعدد کھلاڑیوں سے میری بات ہوتی رہی ہے اور جب بھی میں نے ان سے کامیابی کا ’’راز‘‘ معلوم کرنے کی کوشش کی تو زوہیب خان سے لے کر رفعت اللہ مہمند اورعثمان خالد تک ہر ایک نے یہی جواب دیاکہ وہ مخالف ٹیم کی مضبوطی سے مرعوب ہونے کی بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور ہر کھلاڑی پشاور کی کامیابی کیلئے اپنی پوری جان لڑا دیتا ہے۔یہی وہ راز ہے جس سے دوسری ٹیمیں ناواقف ہیں کیونکہ دیگر ٹیمیں ایک یونٹ کی طرح کھیلتی ہوئی دکھائی نہیں دیتیں ۔ کسی ٹیم میں اگر چند اسٹار کھلاڑی شامل ہوجائیں تو وہ کپتان یا کوچ کی بات سننے کی بجائے اپنی حکمت عملی سے کھیلتے ہیں جبکہ کچھ ٹیمیں ’’مہمان‘‘ کھلاڑیوں پر بھروسہ کرتی ہیں اور اس وجہ سے وہ قومی ایونٹس میں بھی چند میچز کی مہمان ثابت ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مصباح اور یونس کے لیے بڑا اعزاز

پشاور اور خیبر پختونخواہ میں کھیلوں کے فروغ کیلئے کافی مثبت پیش رفت ہورہی ہے اور ماضی کے مقابلے میں کھلاڑیوں کو اب بہتر سہولیات مل رہی ہیں لیکن یہ سہولتیں اب بھی کراچی اور لاہور جیسے شہروں میں ملنے والی سہولتوں کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملتان میں ریجنل اکیڈمی کا آغاز کردیا ہے لیکن پشاور پر ابھی تک نظر کرم نہیں کی جاسکی جہاں مختلف سابق کھلاڑی جن میں وجاہت اللہ واسطی اور فضل اکبر نمایاں ہیں‘اپنی اکیڈمیوں میں نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت میں مصروف ہیں ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کو اب یہ بات سنجیدگی سے سوچنا ہوگی کہ صرف بڑے شہروں یا پھر من پسند ریجنز پر سرمایہ کاری کرنے کیساتھ ساتھ ایسے علاقوں پر بھی توجہ دے جہاں سے نکلنے والی صلاحیت پاکستان کرکٹ کی خدمت کررہی ہے کیونکہ متعدد ٹائٹل جیتنے والے پختون کھلاڑیوں کو صرف یہی گلہ ہے کہ ان کے علاقوں میں کرکٹ کے فروغ کیلئے کام نہیں کیا جارہا مگر اس کے باوجود یہ کھلاڑی نامسائد حالات سے اُبھر کر بڑے شہروں کی ٹیموں کو باآسانی پچھاڑ دیتے ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کی عمدہ پرفارمنس ڈومیسٹک کرکٹ سے نکلنے والی پراڈکٹ پر منحصر ہے کہ اس کا معیار کیا ہے ۔اگر ایک علاقہ پاکستان کرکٹ کو کسی حد تک اچھی پراڈکٹ تیار کرکے دے رہا ہے تو وہ اس پر سرمایہ کاری کریں ... بڑی آسان سی بات ہے!

peshawar-team

Facebook Comments