اعتراف،سزا،معافی۔۔۔۔بات ختم؟

پی سی بی ہیڈ کواٹر میں جب محمد عرفان کو میڈیا کو سامنے بٹھایا گیا تو یوں محسوس ہورہا تھا بائیں ہاتھ کے طویل القامت بالر کیلئے باتیں کرنا ہرگز بھی بائیں ہاتھ کا کھیل نہیں ہے جس کیلئے ساتھ بیٹھے ہوئے ’’محافظوں‘‘ کی موجودگی میں رٹے رٹائے جملے ادا بھی کرنا مشکل ہوررہا تھالیکن بکیوں سے ہونے والے رابطوں میں محمد عرفان کو قطعاً کوئی جھجک محسوس نہیں ہوئی ہوگی اورآج بار بار اپنی غلطی کا اعتراف کرنے والے ’’دیہاتی‘‘ لڑکے کا دماغ بھی اتنا تیز تھا کہ اس نے ان رابطوں کی اطلاع بورڈ کونہیں دی بلکہ پہلی مرتبہ 14مارچ کو ہونے والی پوچھ گچھ پر بھی پی سی بی کو چکمہ دیا اور اب جب اپنے گرد گھیرا تنگ ہوتا ہوا دیکھا تو ’’لمبے‘‘ کی عقل کام کرنا شروع ہوگئی جس نے دو مرتبہ بکیوں سے رابطے کا اعتراف کرلیا’’دو جگہوں سے مجھے اپروچ کیا گیا اور یہ میری غلطی تھی کہ میں نے پی سی بی یا اینٹی کرپشن یونٹ کو اس بارے میں نہیں بتایا‘‘اپنی غلطی قبول کرتے ہوئے فاسٹ بالر کا کہنا تھا کہ ’’میں اپنی غلطی قبول کرتا ہوں لیکن میں نے کرپشن نہیں کی بلکہ بکیوں کو شٹ اَپ کال دی‘‘محمد عرفان نے اپنی غلطی مان لی، پی سی بی نے چھ ماہ تک سنٹرل کانٹریکٹ معطل کردیا ، دس لاکھ جرمانہ کیا اور چھ ماہ سے ایک سال کیلئے کرکٹ سے دور کردیا۔ اب ان چھ ماہ میں محمد عرفان کرپشن کیخلاف تحقیقات میں پی سی بی کی مدد کریں گے اور اس ’’برائی‘‘ سے بچنے کیلئے نوجوان کھلاڑیوں کو بھی لیکچرز بھی دیں گے!!

محمد عرفان نے جرم قبول کرلیا ہے، سزا کا بھی فیصلہ ہوگیا ہے اور قوم سے معافی بھی مانگ لی ہے تو ااب بات ختم ؟چھ ماہ یا ایک سال بعد یہی محمد عرفان ’’ہیرو‘‘ کی حیثیت سے دوبارہ پاکستانی کرکٹ کا حصہ بن جائیں گے ، عوام سر آنکھوں پر بٹھائے گی ،معاف کرے گی اور سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ماضی میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا ہے اور اب بھی یہی ہورہا ہے تو پھرفکسنگ کا یہ جن کس طرح قابو میں آئے گا ؟جب تک مجرموں کو ہیرو بنایا جائے گا ،ماضی کے سپر اسٹارز کو سزائیں دینے کی بجائے اگر بورڈ میں بڑے بڑے عہدے دیے جائیں گے تو پھر یہی کچھ ہوگا جو پی ایس ایل میں ہوا ہے۔ بدنامی کا یہ طوق پاکستان کے حصے میں آتا رہے گا اور چند سال کیلئے پاکستان کی نمائندگی کرنے والے یہ کھلاڑی سنہری ستارے والی شرٹ کو اسی طرح داغدار کرتے رہیں گے۔

کیا محمد عرفان کا کیس اتنا سادہ اور آسان تھا جس طرح اسے میڈیا اور عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے؟؟کیا یہ محض غلطی تھی کہ عرفان نے بورڈ کو بروقت اطلاع نہیں دی اور اب ٹریبیونل کی جانب سے ہونے والی تحقیقات اور تفتیش سے بچنے کیلئے چھ ماہ معطلی اور دس لاکھ روپے جرمانے کی’’ آسان‘‘ سزا قبول کرلی ہے۔ عرفان کے اعتراف کے بعد کیا تحقیقات کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ فاسٹ بالر نے کتنی مرتبہ بکیوں سے رابطہ کی کیا ؟ کیا فون کالز کا ریکارڈ نکالنا ضروری نہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ جب پی سی بی کو محمد عرفان کی مشکوک سرگرمیوں کا علم ہوچکا تھا تو پھربائیں ہاتھ کے بالر کو پی ایس ایل کے بقیہ میچز میں کھیلنے ک کی اجازت کیوں دی گئی؟ اگر وہ اجازت دینا درست تھا تو پھر اب عرفان پر کیوں پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔محمد عرفان نے اعتراف جرم کرلیا ہے اور سزا کا مستحق بھی ٹھہر گیا ہے مگر وہ لوگ اپنی غلطیوں کی اعتراف کب کریں گے جنہوں نے پی ایس ایل سے قبل کھلاڑیوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی تھی کہ وہ ہر کسی سے مل رہے تھے اور جن کھلاڑیوں پر شک تھا انہیں کیوں پی ایس ایل میں کھیلنے کی اجازت دی گئی ۔اب یہ جاننابھی ضروری ہوگیا ہے کہ ایک میچ کی پابندی کے بعد جب محمد عرفان کی پی ایس ایل میں واپسی ہوئی تواس نے کیسی پرفارمنس کا مظاہرہ کیا اور اس کی کروائی ہوئی ہر گیند پر شک کرنا لازمی ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پشاور زلمی نے "فاٹا سپر لیگ" کروانے کا اعلان کردیا

یہ کیس اتنا آسان نہیں ہے جتنا اسے بنایا جارہا ہے کہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جائے بلکہ اس میں بہت کچھ وہ ہوا ہے جس کا اسکرپٹ بہت پہلے سے تیار ہوچکا تھا۔ کردار بھی اپنی مرضی کے تھے اور ان کے ڈائیلاگ بھی مگر اب پی ایس ایل فکسنگ کیس کی پرتیں کھلنا شروع ہوگئی ہیں جس میں کچھ پردہ نشینوں اور پارساؤں کے نام بھی سامنے آئیں گے۔اب اس کیس کا دائرہ کار محض پی ایس ایل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے ڈانڈے دورہ انگلینڈ سے بھی ملیں گے جب اسپاٹ فکسنگ کیس میں آنے والے تمام نام گوروں کے دیس میں موجود تھے۔ دورہ انگلینڈ میں ٹیم مینجمنٹ میں کون لوگ تھے اور ٹیم کی سیکورٹی پر کون معمور تھے ذرا اُن کے ناموں کو بھی یاد کرنے کی کوشش کرلی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

دو ماہ قبل پی ایس ایل کے آغاز پر نجم سیٹھی نے شرجیل خان اور خالد لطیف کیخلاف جن ’’ٹھوس‘‘ ثبوتوں کی موجودگی کا بتایا تھا وہ ثبوت ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکے اور یہی وجہ ہے کہ ٹربینونل کے سامنے پہلی پیش کے بعد شرجیل اور خالد کے نام بھی پس منظر میں جاتے جارہے ہیں جو ممکن ہے کہ 14اپریل کو دھماکہ خیز انٹری دیں مگر اس سارے کیس نے کھبے اوپنر کے نئے گھر کی تعمیر کھٹائی میں ضرور ڈال دی ہے۔محمد ع عرفان نے بتایا کہ انہوں نے بکیوں کو شٹ اَپ کال دی تھی اور نجم سیٹھی نے خود کو ہیرو بنوانے کی بھی پوری کوشش کرلی لیکن جیسے جیسے یہ کیس آگے بڑھ رہا ہے اس کے بعد بہت سے لوگوں کو ’’شٹ اَپ‘‘ کال ملنے والی ہے!!

mohammad-irfan

Facebook Comments